اسرائیل اورفلسطین کے درمیان چل رہی جنگ کا سب سے بڑا بوجھ غزہ کے عام شہریوں پرپڑرہا ہے۔ تباہی کی تصاویرپوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ پوری دنیا کے لوگ ایسی تصاویر دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اوران کا ضمیرانہیں جھنجھوڑدیتا ہے، لیکن اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو پراس کا کوئی اثرنہیں ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے لوگ بھی اس طرح کی تصاویر دیکھنے کے بعد اپنی حکومت کے خلاف آوازاٹھا رہے ہیں، لیکن بے رحم حکومت کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔ کئی مسلم ممالک ایسے حالات کے لئے سیدھے طور پربنجامن نیتن یاہوکوذمہ دار مانتے ہیں اورمسلسل بیان بھی دیتے ہیں۔
تاہم پھرسوال آتا ہے کہ اتنے ممالک کی مخالفت کے باوجود کوئی بھی اسرائیل پرسخت دباؤ کیوں نہیں بناتا۔ کیا وجہ ہے کہ مسلم ممالک کی آوازیں صرف مذمت اورحمایت تک محدود رہتی ہیں۔ کوئی بھی ملک ٹھوس قدم اٹھانے کے بارے میں نہیں سوچتا ہے۔ اصل خوف آخرکس بات کا ہے کہ جس نے مسلم ممالک کو متحد ہوکراسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔ آئیے آپ کواس کے بارے میں بتاتے ہیں اورکچھ اہم پوائنٹس بتاتے ہیں۔
مسلم ممالک کیوں نہیں ہوتے ہیں متحد؟
اسرائیل اورمسلم ممالک کے رشتے لمبے وقت سے خراب ہیں۔ خاص طورپرغزہ سے متعلق کشیدگی ہمیشہ سامنے آتی رہی ہے۔ اس کے باوجود مسلم ممالک مل کرکوئی بڑا قدم نہیں اٹھاتے۔ اب ایسے میں بہت سے لوگوں کے دل میں یہ سوال آتا ہے کہ آخراس کے پیچھے وجہ کیا ہے؟ توآپ کوبتادیں کہ ہرملک کی اپنی سیاست اورمجبوریاں ہیں۔ کئی مسلم ممالک کے امریکہ اوریوروپ سے رشتے ہیں۔ جواسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ عرب ممالک کے آپسی اختلاف بھی انہیں متحد نہیں ہونے دیتے۔ کچھ ممالک کے اسرائیل سے خفیہ تجارت اوردفاعی معاہدے بھی ہیں۔ غزہ پرحملے کے وقت مسلم ممالک کے رہنما بیان تودیتے ہیں اورحمایت بھی ظاہرکرتے ہیں، لیکن راست طورپراسرائیل کے خلاف کوئی نہیں کھڑا ہوتا۔ حالانکہ راست طور پر جنگ میں کودنے سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غزہ کا مسئلہ اٹھانے کے بعد اسرائیل کے خلاف کوئی عملی اقدامات نہیں کرتے۔
اسرائیل نے مسلم ممالک پرکس طرح بنا رکھا ہے خوف؟
میڈیا کے مطابق، اسرائیل سے مسلم ممالک کے راست طورپرٹکراؤ نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے کافی لوگ ڈرتے ہیں۔ اسرائیل جغرافیائی اعتبارسے کافی چھوٹا ہے، لیکن اس کی فوجی طاقت کافی بڑی ہے۔ حالانکہ حماس نے اس کی فوجی طاقت پر بڑا حملہ کرتے ہوئے اسے بے نقاب بھی کردیا ہے اوردنیا کے سامنے اس کی حقیقت بھی آگئی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ اسرائیل کے پاس جدید ہتھیار، ایڈوانس میزائل سسٹم اورمضبوط فضائیہ ہے۔ سب سے اہم بات کہ اسرائیل کے پاس نیوکلیئرہتھاربھی ہیں، جواسے مزید خطرناک بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی مضبوط ٹکنالوجی اورکئی ممالک سے ہونے والا بڑا ٹریڈ (تجارت) اسے مزید طاقتوربناتا ہے۔ ایسے حالات میں مسلم ممالک کو لگتا ہے کہ راست طور پرجنگ کرنا بھاری نقصان پیدا کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے غزہ یا فلسطین پرحملے کے بعد بھی مسلم ممالک بیان بازی تک محدود رہتے ہیں اور راست طور پر لڑائی میں کودنے سے بچتے ہیں۔
امریکہ-یوروپ کا دباؤ
اسرائیل کے معاملے میں امریکہ اوریوروپ کا دباؤ ہمیشہ اہم مانا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کھلے طور پراس کی حمایت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ جیسے اسٹیج پراس کا موقف مضبوط کرتے ہیں۔ اگرکوئی مسلم ملک اسرائیل کے خلاف سیدھی کارروائی کرتا ہے تواسے مغربی ممالک سے سخت پابندی اوراقتصادی نقصان کا خوف ستانے لگتا ہے۔ یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔ حالانکہ امریکہ کبھی کبھی گھڑیالی آنسو بہاتے ہوئے قتل عام کے خلاف بیان تو دیتا ہے، لیکن اسرائیل کی ہرممکن مدد بھی کرتا ہے۔ اسرائیل کو کسی بھی مشکل مرحلے سے باہرنکالنے کے لئے امریکہ سب سے آگے کھڑا ہوجاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…