ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس ایک تازہ تنازعے میں گھر گئے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے پاکستان کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات کے دوران ایک ایسا متنازعہ نقشہ پیش کیا جس میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں بشمول آسام کو بنگلہ دیش کے حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یونس کے اس اقدام نے نہ صرف بھارت میں سخت ردِعمل کو جنم دیا بلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئی کشیدگی بھی پیدا کر دی ہے۔
پاکستانی جنرل کو پیش کیا متنازعہ نقشہ
ذرائع کے مطابق ملاقات ڈھاکہ میں ہوئی، جہاں محمد یونس نے جنرل شمشاد مرزا کو ایک کتاب بطور تحفہ دی۔ اس کتاب کے سرورق پر شائع نقشہ ”گریٹر بنگلہ دیش“ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو بنگلہ دیش کے شدت پسند اسلامی گروہوں کے بیانیے کا حصہ ہے۔ اس نقشے میں بھارت کے آسام، میگھالیہ، منی پور، تریپورہ، میزورم، حتیٰ کہ مغربی بنگال کے کچھ حصوں کو بھی بنگلہ دیش کے علاقے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ محمد یونس نے اس ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر بھی شیئر کیں۔ تصاویر سامنے آتے ہی بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ صارفین نے یونس پر بھارت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔
“گریٹر بنگلہ دیش” نظریہ اور شدت پسند ایجنڈا
تجزیہ کاروں کے مطابق ”گریٹر بنگلہ دیش“ کا نظریہ دراصل ایک پرانا شدت پسند ایجنڈا ہے، جس کے تحت بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کو بنگلہ دیش کے تاریخی یا نسلی دائرے میں شامل دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کی مین اسٹریم سیاسی جماعتیں ہمیشہ اس تصور سے فاصلہ رکھتی رہی ہیں، مگر یونس کا یہ قدم ان کے شدت پسند گروہوں سے قربت کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت میں شدید ردِعمل
بھارتی سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں نے اس عمل کو ”بدنیتی پر مبنی اشتعال انگیزی“ قرار دیا۔ کئی ماہرین نے کہا کہ محمد یونس بین الاقوامی سطح پر ایک نوبیل انعام یافتہ شخصیت ہیں، مگر ان کا یہ طرزِ عمل “غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک” ہے۔
یونس کی سابقہ متنازعہ بیان بازی
یہ پہلا موقع نہیں جب یونس نے بھارت کے خلاف متنازعہ رائے دی ہو۔ گزشتہ برس چین کے دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کا شمال مشرقی حصہ “لینڈ لاکڈ” ہے اور بنگلہ دیش ہی اس کے لیے واحد سمندری راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ اس بیان پر بھارت نے سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ ٹرانس شپمنٹ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ڈھاکہ کو بھاری اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا۔
دو طرفہ تعلقات پر اثر
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یونس کا تازہ قدم بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ بھارت نے اگرچہ اس معاملے پر سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، مگر وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق “یہ عمل قابلِ مذمت اور تشویشناک” ہے۔ محمد یونس کے متنازعہ نقشے نے ایک بار پھر خطے میں علاقائی حساسیت اور سفارتی نزاکتوں کو اجاگر کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…
رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور…
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…