بین الاقوامی

Millions in Gaza face starvation: غزہ فاقہ کشی کے دہانے پر، 21لاکھ سے زائد افراد کی زندگیاں خطرے سے دوچار، عالمی برادری نے تشویش کا کیا اظہار

غزہ میں جاری انسانی بحران نے سنگین صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے اداروں اور امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ 21 لاکھ سے زائد افراد کو فاقہ کشی کا سامنا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور امدادی رسائی پر پابندیوں کے باعث خوراک، پانی، اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے UNRWA نے بتایا کہ 9 ہفتوں سے زائد عرصے سے غزہ میں کوئی امدادی سامان داخل نہیں ہو سکا، جس سے حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ شمالی غزہ میں خاص طور پر صورتحال نازک ہے، جہاں فاقہ کشی کے دہانے پر موجود لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی نہ دی گئی تو شمالی غزہ میں بڑے پیمانے پر فاقہ کشی ناگزیر ہو جائے گی۔ اکتوبر 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق، غزہ کی 70 فیصد زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے، اور مقامی خوراک کی پیداوار تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ امدادی ٹرکوں کی تعداد جو پہلے روزانہ 500 تک پہنچتی تھی، اب گھٹ کر چند درجن رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کرم ابو سالم کراسنگ پر سخت چیکنگ اور مقامی بدامنی نے امداد کی ترسیل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

غزہ کے اسپتالوں میں حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں، جہاں ایندھن کی کمی کی وجہ سے جنریٹرز بند ہو چکے ہیں اور طبی سامان ختم ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، شمالی غزہ کے اسپتالوں میں بچوں کی غذائی قلت کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 90 فیصد بچوں اور حاملہ خواتین کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، اور ایک تہائی بچوں میں شدید غذائی قلت کی تشخیص ہوئی ہے۔ امدادی تنظیموں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ تمام کراسنگ پوائنٹس کھولے اور امدادی سامان کی بلا روک ٹوک ترسیل کو یقینی بنائے۔

بین الاقوامی برادری نے غزہ کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن زمینی حالات میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کی اپیل کی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی پابندیوں کو “جنگی جرم” قرار دے رہی ہیں۔ امریکی حکومت نے بھی اسرائیل پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امدادی رسائی کو بہتر بنائے، لیکن تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ غزہ کے عوام اب بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آنے والے مہینوں میں یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

2 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago