فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے خلاف ایران کی جانب سے جاری حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی ہے۔ میکرون نے اس گفتگو کی تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ فرانسیسی صدر کے مطابق انہوں نے ایرانی صدر سے واضح طور پر کہا کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے وہ حملے قابل قبول نہیں ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر الزام ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے حملوں میں ملوث ہے، جن میں لبنان اور عراق جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔
میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جس تیزی سے کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام اور افراتفری کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ میکرون کے مطابق اس کشیدگی کے نتائج نہ صرف آج بلکہ آنے والے برسوں میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام سمیت پورے خطے کے لوگ اس کشیدگی کی قیمت ادا کر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ایک نیا سیاسی اور سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دیا جائے جو تمام ممالک کے لیے امن اور استحکام کی ضمانت فراہم کرے۔
فرانسیسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نئے سیکیورٹی فریم ورک میں یہ ضمانت شامل ہونی چاہیے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے سمیت دنیا بھر میں اس کی مبینہ طور پر غیر مستحکم سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی ختم کرنا ضروری ہے۔ میکرون نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی جلد بحالی کی بھی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سمندری راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
فرانسیسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایران میں قید فرانسیسی شہریوں سیسل کوہلر اور جیکس پیرس کو جلد از جلد رہا کر کے بحفاظت فرانس واپس بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں شہریوں کی قید بہت طویل ہو چکی ہے اور ان کی رہائی انسانی بنیادوں پر ضروری ہے۔ یہ دونوں افراد مئی 2022 میں ایران کے دورے کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔ میکرون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس نے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں فرانسیسی صدر نے اعلان کیا تھا کہ پیرس مشرقی بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر میں آٹھ فریگیٹ جنگی جہاز، دو ایمفیبیئس ہیلی کاپٹر کیریئر اور طیارہ بردار بحری جہاز ”چارلس ڈی گال“ تعینات کر رہا ہے تاکہ اتحادی ممالک کی حمایت اور سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ادھر اس سے قبل امریکی صدر بھی اپنے اتحادی ممالک سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ ہرمز آبنائے میں بحری راستوں کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیجیں تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو محفوظ رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…