بین الاقوامی

Ali Khamenei Funeral: آیت اللہ علی خامنہ کی نجف اور کربلا میں آخری رسومات کی تیاریاں، ایران۔عراق تعلقات اور سیاست کے بدلتے منظرنامے کی نئی علامت

نئی دہلی : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کی آخری رسومات سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ جس عراق کے ساتھ ایران نے 1980 سے 1988 تک آٹھ سال طویل اور خونریز جنگ لڑی تھی، اب اسی ملک کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں ان کے جسد کو لے جایا جائے گا۔ یہ منظر نہ صرف تاریخ کے ایک غیر معمولی موڑ کی عکاسی کرتا ہے ،بلکہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی اور مذہبی حقیقتوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ خطے کی تاریخ کے سب سے تباہ کن تنازعات میں شمار کی جاتی ہے۔ 1980 میں عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کی ایک بڑی وجہ 1979 کا ایرانی اسلامی انقلاب تھا۔ صدام حسین کو خدشہ تھا کہ انقلاب کے نظریات عراق کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی پھیل سکتے ہیں، جس سے ان کی حکومت کے لیے خطرات پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ شط العرب آبی گزرگاہ اور سرحدی تنازعات بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی اہم وجوہات تھے۔

اس وقت ایران کی اعلیٰ ترین قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی کے ہاتھ میں تھی، جو اسلامی انقلاب کے بعد ملک کے پہلے سپریم لیڈر بنے تھے۔ جنگ کے دوران دونوں ممالک نے شدید جانی اور مالی نقصان اٹھایا۔ لاکھوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، کئی شہر تباہ ہوئے اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بھی الزامات سامنے آئے۔ آٹھ برس بعد جنگ تو ختم ہو گئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان گہری بداعتمادی اور دشمنی کی یادیں باقی رہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہےکہ  چار دہائیوں بعد حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آج عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ بغداد سے لے کر نجف اور کربلا تک ایران کے حامی شیعہ سیاسی اور مذہبی گروہوں کی نمایاں موجودگی دیکھی جاتی ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دی ہے۔اطلاعات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد کو پہلے ایران کے مذہبی شہر قم لے جایا جائے گا، جہاں ابتدائی مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی۔ اس کے بعد نجف اور کربلا میں خصوصی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات منعقد ہوں گے، جن میں خطے بھر سے اہم شیعہ مذہبی شخصیات اور ایران کے اتحادی گروہوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ بعد ازاں ایران کے شہر مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے قریب انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں جسد کو لے جانے کا فیصلہ محض مذہبی روایت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور علامتی پیغام بھی رکھتا ہے۔ یہ اقدام آیت اللہ خامنہ ای کو عالمی شیعہ برادری کی مذہبی روایت، شہادت اور آئمہ اہل بیتؑ کی میراث سے جوڑنے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایران کے اس مؤقف کو بھی تقویت دیتا ہے کہ وہ خود کو دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کی قیادت کا مرکز تصور کرتا ہے۔یوں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست، ایران و عراق کے نئے تعلقات اور خطے میں شیعہ مذہبی و سیاسی اثر و رسوخ کی عکاس بھی سمجھی جا رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

11 minutes ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

43 minutes ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

1 hour ago

PM Modi Chintan Shivir: سیوا تیرتھ میں وزرا کا ’مہامنتھن‘، پی ایم مودی کا 4 روزہ چنتن شِور شروع

وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…

2 hours ago

Assault Viral Video: قانون کا خوف ختم؟ اوور ریٹنگ کی مخالفت پر نوجوان کو بے رحمی سے پیٹا، ویڈیو وائرل

میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…

3 hours ago