امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکی ملازمتیں بیرون ملک منتقل کیں یا امریکی ملازمین کی جگہ قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو ملازمت دی تو انہیں بھاری ٹیرف (درآمدی محصولات) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اولین ترجیح امریکی ملازمتوں کا تحفظ اور ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔ اوہائیو کے شہر لیما میں ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات سے متعلق ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ امریکہ میں مینوفیکچرنگ کرنے اور امریکی شہریوں کو روزگار دینے والی کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے مراعات دی جائیں گی۔ اس کے برعکس، جو کمپنیاں اپنی فیکٹریاں اور ملازمتیں بیرون ملک منتقل کریں گی، انہیں سزا کے طور پر بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی فیکٹری غیر ملکی کمپنی کے حوالے کی تو کیا ہوگا؟
جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی امریکہ میں سامان تیار کرتی ہے اور امریکی شہریوں کو روزگار فراہم کرتی ہے تو یہ قابل ستائش ہے۔ ایسی کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے ٹیکس میں بڑی رعایت دی جائے گی، تاکہ وہ اپنی پیداوار بڑھا سکیں اور کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی امریکی ملازمتیں بیرون ملک منتقل کرتی ہے، اپنی فیکٹری کسی غیر ملکی کمپنی کے حوالے کرتی ہے یا بعد میں امریکی ملازمین کی جگہ قانونی طور پر مقیم کسی تارکین وطن کو ملازمت دینے کی کوشش کرتی ہے تو اسے بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وینس کا یہ بیان اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے امریکی ملازمتوں کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے قانونی تارکین وطن کا بھی واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ تاہم، نائب صدر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے والی کمپنیوں پر نئے ٹیرف کس طریقے سے نافذ کیے جائیں گے یا اس حوالے سے کوئی نئی پالیسی کب متعارف کرائی جائے گی۔ اس کے باوجود ان کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روزگار کے معاملے میں امریکی شہریوں کو ترجیح دینا اور کمپنیوں کو امریکہ کے اندر سرمایہ کاری اور پیداوار بڑھانے کی ترغیب دینا چاہتی ہے۔
’اپنی آنکھوں کے سامنے فیکٹریاں بند ہوتے دیکھی ہیں‘، وینس
جے ڈی وینس نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد کئی دہائیوں سے جاری صنعتی زوال کو روکنا اور امریکی مینوفیکچرنگ سے وابستہ ملازمتوں کو بیرون ملک منتقل ہونے سے بچانا ہے۔ اپنے آبائی شہر مڈل ٹاؤن، اوہائیو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے فیکٹریاں بند ہوتے اور ملازمتیں ختم ہونے کے بعد خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرتے دیکھا ہے۔ وینس نے کہا، ’’میں جانتا ہوں کہ جب کسی ماں یا باپ کی ملازمت چلی جاتی ہے تو اس کا خاندان پر کیا اثر پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں ایسی ہونی چاہئیں جو کمپنیوں کو ملازمتیں بیرون ملک منتقل کرنے کے بجائے امریکہ میں سرمایہ کاری اور پیداوار بڑھانے کی ترغیب دیں۔ ان کے الفاظ میں، ’’ہم اپنے لوگوں کے لیے لڑیں گے۔‘‘ نائب صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انتظامیہ کی اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری امریکہ آئی ہے اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔
ادویات سے لے کر ایرو اسپیس تک، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری
جے ڈی وینس نے اوہائیو میں آٹوموبائل، ایرو اسپیس اور ادویات کی صنعتوں میں مجوزہ سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے امریکہ میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے ان منصوبوں کے حوالے سے درج ذیل سرمایہ کاری کا ذکر کیا:
آٹوموبائل مینوفیکچرنگ: اسٹیلانٹس کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری۔
ایرو اسپیس کا شعبہ: 85 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری۔
ادویات کی تیاری: 2.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری۔
وینس کے مطابق، ان سرمایہ کاری منصوبوں سے امریکی صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید
جے ڈی وینس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیگریشن اور روزگار سے متعلق پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے غیر قانونی امیگریشن کو فروغ دیا، جس سے امریکی ملازمین کی اجرتوں اور روزگار کے مواقع پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا مقصد امریکی شہریوں کے روزگار کا تحفظ کرنا اور کمپنیوں کو ملک کے اندر پیداوار بڑھانے کی جانب راغب کرنا ہے۔
ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں انتخابی خطاب
وینس کے یہ بیانات ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں کیے گئے ایک وسیع انتخابی خطاب کا حصہ تھے۔ ان امیدواروں میں بھارتی نژاد کاروباری شخصیت وویک راماسوامی بھی شامل ہیں، جو اوہائیو کے گورنر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سینیٹر جان ہسٹڈ بھی اس انتخابی مہم کا حصہ ہیں۔ وینس کے خطاب میں ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی پر زور دیا گیا، جس کے تحت امریکی ملازمتوں، ملکی صنعت اور مقامی پیداوار کو ترجیح دینے کی بات کی جاتی ہے۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کمپنیوں کو امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے اور امریکی شہریوں کو روزگار فراہم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے سخت تجارتی اقدامات پر غور کرنے کا اشارہ دے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی میں احتجاج کے دوران ممتا بنرجی کے بعد عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند…
معطل کیے گئے کانسٹیبل کی شناخت ہنومنتھا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ واقعہ کمالاپورہ…
ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی اور شاہ…
ویڈیو میں کئی افراد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہاں پولیس کے…
ہفتہ کی صبح سی جے پی کے احتجاج سے قبل دہلی پولیس نے بڑی کارروائی…
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 میں سیاست میں آئے تھے اور اس وقت…