امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادمیر پوتن کے درمیان آئندہ دنوں الاسکا میں ہونے والے امن مذاکرات سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے یوکرین جنگ کے لیے مزید مالی معاونت بند کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ معروف امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر وانس نے کہا کہ ’’ہم یوکرین جنگ کی فنڈنگ سے تنگ آ چکے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا پُرامن حل نکلے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی شہری اپنے ٹیکس کا پیسہ اس تنازع پر مزید خرچ ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ اگر یورپی ممالک امریکی ہتھیار خرید کر جنگ میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے، لیکن امریکہ اب اپنی جیب سے یہ جنگ نہیں لڑے گا۔‘‘
واضح رہے کہ الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہونے والی ہے، جس میں خاص طور پر مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں کریملن کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک مجوزہ جنگ بندی منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس میں مشرقی یوکرین کا کنٹرول روس کو دینے کے بدلے میں دشمنی جنگ ختم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
تاہم یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اس ممکنہ معاہدے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ایسے معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں جو یوکرین کی شمولیت کے بغیر طے پائے۔ اگرچہ زیلنسکی کو الاسکا اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اور نیٹو میں امریکہ کے سفیر نے ایک ممکنہ سہ فریقی اجلاس کی امید ظاہر کی ہے۔ دریں اثنا یورپی رہنماؤں نے بھی اس مجوزہ معاہدے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی کوششوں کی سفارتی، اقتصادی اور عسکری سطح پر حمایت کریں گے، لیکن واضح کیا ہے کہ کسی بھی امن منصوبے میں یوکرین اور یورپ کے سلامتی مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نے گجرات کی ایک منفرد پہل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا…
من کی بات‘ کی 138ویں قسط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج 27…
’سریلا سفر-30‘ کے ذریعے بالی ووڈ کی ان میلوڈیز کو یاد کیا جاتا ہے جو…
دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ…
اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے…
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…