بین الاقوامی

Israel unwilling to refuel US military aircraft: امریکی ری فیولنگ طیاروں کی بڑھتی تعداد پر اسرائیل کا اظہار تشویش، کہا-’’بین گورین ایئرپورٹ کی گنجائش ختم‘‘

نئی دہلی: اسرائیل نے امریکی فوج کے مزید ایندھن بھرنے والے طیاروں کی ری فیولنگ پر اعتراض کیا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث بڑی تعداد میں امریکی فوجی طیارے ایندھن بھرنے کے لیے اسرائیل کے بین گورین ایئرپورٹ پہنچ رہے ہیں، جس کی وجہ سے مسافر پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (IRNA) کی رپورٹ کے مطابق، ایک اسرائیلی عہدیدار نے مزید طیاروں میں ایندھن بھرنے سے متعلق اختلاف ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بین گورین ایئرپورٹ پر مزید امریکی ری فیولنگ طیارے پہنچے تو پروازیں منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

’’مزید ری فیولنگ طیارے آئے تو پروازیں منسوخ ہو سکتی ہیں‘‘

IRNA کے مطابق اسرائیل براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے حوالے سے اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اگر بین گورین ایئرپورٹ کو مزید امریکی ری فیولنگ طیاروں کو جگہ دینی پڑی تو وہ تمام طے شدہ پروازوں کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہے گا۔  ڈائریکٹر نے کہا ’’ہم پروازیں منسوخ ہونے سے بچانے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں اور دیگر مقامات پر امریکی ری فیولنگ طیارے موجود ہیں۔ ہم فضائیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہر شخص اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔‘‘

ایئرپورٹ اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک پہنچ چکا ہے

IRNA کے مطابق اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ بین گورین ایئرپورٹ اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک پہنچ چکا ہے اور اب وہ ایک اور ری فیولنگ طیارے کو بھی سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز اسرائیلی چینل 12 نے بتایا تھا کہ بین گورین ایئرپورٹ پر امریکہ کے 33 ری فیولنگ طیارے تعینات ہیں۔ اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اس ایئرپورٹ پر مزید طیارے بھیج سکتا ہے۔ تخمینہ ہے کہ اگر مزید سات طیارے پہنچتے ہیں اور ان کی مجموعی تعداد 40 ہو جاتی ہے تو اگست کے آغاز سے روزانہ تقریباً 30 پروازیں منسوخ کرنا پڑ سکتی ہیں۔ اس صورتِ حال سے تقریباً 5 ہزار مسافروں کے ٹکٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی فوج نے ایران پر مسلسل 11ویں رات حملے کیے

امریکی فوج نے منگل کے روز امریکی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 15 منٹ پر ایران پر مسلسل 11ویں رات فوجی حملے کیے۔ سینٹ کام کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فوجی آپریشن سینٹرز، بحری فوجی صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات، فوجی طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Pakistan-Afghanistan Clash: پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، سوئے ہوئے لوگوں پر جنگی طیاروں نے برسائے بم

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…

14 minutes ago

Mamata Banerjee To Rahul Gandhi: ممتا بنرجی کے رابطے میں راہل گاندھی، انڈیا اتحاد پر کلیان بنرجی کا بڑا دعویٰ

ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…

1 hour ago

Xi Jinping to Visit the US: امریکہ جائیں گے شی جن پنگ، جانئے  کیوں چین کو لے کر ٹرمپ نے بدلا مؤقف؟

ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…

3 hours ago

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

11 hours ago