تصویر بشکریہ اے ایف پی۔
جنگ بندی کی بات چیت کے دوران اسرائیل نے منگل کو غزہ پر اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے، جس نتیجے میں کم از کم 330 افراد ہلاک ہو گئے۔مقامی وقت کے مطابق صبح 2 بجے شروع کیا گیا یہ حملہ 19 جنوری کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے فلسطینی سرزمین پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے سربراہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ فضائی حملے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ تل ابیب نے یک طرفہ طور پر جنگ بندی کو ختم کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی خبر کے مطابق ان حملوں میں گنجان آباد شہری علاقوں، عارضی اسکولوں، رہائشی عمارتوں اور ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں بے گھر افراد خیموں میں پناہ لے رہے تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دی تھی حملے کی منظوری
دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے کہا کہ حماس کی جانب سے ’’ہمارے یرغمالیوں کو رہا کرنے سے بار بار انکار‘‘ اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے بات چیت میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے فضائی حملوں کا حکم دیا تھا۔ نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اب سے حماس کے خلاف اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرے گا۔ نتن یاہو نے کہا ’’آج کا آپریشنل پلان IDF [اسرائیل ڈیفنس فورسز] نے ہفتے کے آخر میں پیش کیا تھا اور سیاسی قیادت نے اس کی منظوری دی تھی۔‘‘
اے پی کی رپورٹ کے مطابق حماس نے اس حوالے سے کہا ہےکہ اسرائیل کے اقدامات بغیر کسی اشتعال انگیزی کے اٹھائے گئے ہیں اور یہ یرغمالیوں کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ فلسطینی عسکریت پسند گروپ نے دوسرے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’غزہ کی پٹی میں ہمارے لوگوں کے خلاف صہیونیوں کی طرف سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کو مسترد کرنے کے لیے آواز اٹھائیں۔‘‘
امریکہ سے مشاورت کے بعد ہوئے ہیں یہ حملے
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ پیر کو اسرائیل نے فضائی حملے شروع کرنے سے پہلے امریکہ سے ’’مشورہ‘‘ لیا تھا۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے بتایا کہ ’’حماس جنگ بندی میں توسیع کے لیے یرغمالیوں کو رہا کر سکتا تھا، لیکن اس کے بجائے اس نے انکار اور جنگ کا انتخاب کیا۔‘‘ واضح رہے کہ غزہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا جس میں 1,200 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ یرغمال بنائے گئے تھے۔ اسرائیل اس وقت سے غزہ پر بےشمار فضائی اور زمینی حملے کر رہا ہے جس میں 17,400 بچوں سمیت 47,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس تنازع میں اب تک 400 اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
کچھ یرغمالیوں کو نومبر 2023 میں ایک مختصر جنگ بندی کے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا اور کچھ جنگ کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ 19 جنوری کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے 30 یرغمالیوں کو رہا کیا اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں آٹھ دیگر کی لاشیں اسرائیل کو واپس کر دیں۔ 2 مارچ کو اسرائیلی حکومت نے کہا کہ اس نے حماس کے ساتھ معاہدے کے پہلے چھ ہفتے کے مرحلے کے اختتام کے بعد غزہ میں جنگ بندی میں عارضی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن اس نے حماس پر جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے اس کی تجویز کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش میں غزہ کے لیے انسانی امداد کی تمام ترسیل روک دی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ ’’اسرائیل ہمارے یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر جنگ بندی کی اجازت نہیں دے گا۔ اگر حماس اپنے انکار پر قائم رہی تو اس کے مزید برے نتائج ہوں گے۔‘‘
گزشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ بندی کو مزید بڑھانے کی کوشش کی تھی اور دونوں فریقوں کو ایک تجویز پیش کی تھی۔ تاہم قطر میں ہونے والی بات چیت مبینہ طور پر بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئی اور وائٹ ہاؤس نے حماس پر اس کی تجویز کو مسترد کرنے کا الزام لگایا۔ جس کے بعد اسرائیل نے یہ تازہ حملہ کیا ہے۔ وہیں امریکہ غزہ کے حامی حوثیوں پر حملے کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…