غزہ امن سربراہی اجلاس آج مصر میں منعقد ہوگا، جس میں ڈونالڈ ٹرمپ بھی شامل ہوں گے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ معاہدے کے ساتھ جنگ ختم ہوگی یا نہیں اس کا فیصلہ اب حماس پرمنحصرہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روزبتایا کہ اسرائیل غزہ سے انخلاء کے لئے تیارہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل انخلا کی لائن پررضامند ہوگیا ہے اورحماس کو اس سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ حماس کے معاہدے پررضامندی کے بعد فوری طورپرجنگ بندی نافذ ہوجائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے لئے ابتدائی انخلاء کی لائن پراتفاق کیا ہے، جس سے حماس کوبھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی حماس اس بات کی تصدیق کرے گی، فوری طورپرجنگ بندی نافذ ہوجائے گی اورقیدیوں کا تبادلہ شروع ہو جائے گا۔
کب نافذ ہوگی نافذ بندی؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل سائٹ پرپوسٹ کرتے ہوئے لکھا، مذاکرات کے بعد اسرائیل نے شروعاتی واپسی ابتدائی انخلاء کی لائن پر رضا مندی ظاہرکی ہے، جس کے بارے میں ہم نے حماس کوبھی مطلع کردیا ہے۔ جیسے ہی حماس نے تصدیق کی، فوری طورپرجنگ بندی نافذ ہو جائے گی، یرغمالیوں کا تبادلہ شروع ہوجائے گا اورپھرہم انخلا کے اگلے مرحلے پر بات کریں گے، جو ہمیں اس 3000 سال پرانے بحران کے خاتمے کے قریب لے جائے گا۔
حماس کو دی وارننگ
ٹرمپ نے حماس سے امن منصوبے کوفوری قبول کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس گروپ سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے امن منصوبے کوجلد تسلیم کریں۔ ٹرمپ نے خبردارکیا کہ وہ کسی قسم کی تاخیربرداشت نہیں کریں گے۔ انھوں نے حماس سے کہا کہ وہ لڑائی بند کردے اورہتھیارڈال دے، بصورت دیگر تمام معاہدے کالعدم تصورکئے جائیں گے۔ ٹرمپ نے حماس کواتوارکی شام 6 بجے تک کا الٹی میٹم دیا ہے۔
حماس نے کیا کہا؟
حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امن تجویز پر مثبت ردعمل دیا ہے، لیکن کچھ پوائنٹ پرابھی بھی اختلاف بنا ہوا ہے۔ حماس نے یرغمالیوں کورہا کرنے پررضا مندی ظاہرکی ہے۔ وہیں امن تجویزمیں لکھا ہے کہ حماس کوہتھیارچھوڑنے ہوں گے، مستقبل میں غزہ میں اس کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ ان پوائنٹ پرحماس ابھی تیار نہیں ہوا ہے۔
مصرمیں ہوگی بات چیت
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں تمام یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان کردیا جائے گا۔ اسرائیل اورحماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پیرکومصر میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، کئی اہم نکات غیرواضح ہیں- بشمول حماس اس تجویز کو مکمل طورپرقبول کرے گی اوراسرائیل کے سیکورٹی خدشات کوکیسے دور کیا جائے گا۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری نے ٹرمپ کی ایک ویڈیودوبارہ شیئرکی، جس میں غزہ بحران کے خاتمے کے لئے اپنے منصوبے میں تعاون پرتمام عرب ممالک کا شکریہ ادا کیا تھا۔
کیا ہے 20 نکاتی پلان؟
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبہ میں فوری جنگ بندی، سبھی یرغمالیوں اورقیدیوں کی تبدیلی، غزہ سے مرحلہ وار طریقے سے اسرائیلی فوج کی واپسی، حماس کوغیرمسلح کرنا اوربین الاقوامی نگرانی میں عبوری حکومت کا قیام شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…