نئی دہلی : ایران کے ساتھ جاری جنگ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عوامی دعوے وائٹ ہاؤس کی اندرونی رپورٹ سے بالکل مختلف نظر آ رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ مشیروں نے ٹرمپ کے سامنے یہ امکان رکھا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ان کی موجودہ مدتِ صدارت کے اختتام یعنی جنوری 2029 تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ عوامی طور پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔
2029 تک جنگ جاری رہنے کا خدشہ
وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والی ان بات چیت کی تصویر ٹرمپ کے عوامی بیانات سے بالکل مختلف ہے۔ ٹرمپ بدھ کو دعویٰ کر چکے ہیں کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی، کیونکہ ایران اب زیادہ عرصے تک جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
طویل جنگ سے امریکی فوج اور تیل بازار پر دباؤ
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو اس سے امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی تیل بازار میں طویل عرصے تک غیر یقینی صورت حال اور رسد میں رکاوٹ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی کے کچھ حصوں کو 2027 تک بڑھا چکے ہیں۔ پینٹاگون کا منصوبہ خطے میں بعض فضائی دفاعی یونٹوں کو بغیر کسی مقررہ آخری تاریخ کے برقرار رکھنے کا بھی ہے۔
ایران پر طویل اقتصادی دباؤ کی تیاری
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ ایران پر طویل عرصے تک اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کی بھی حمایت کر رہے ہیں۔ اس میں بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کے ذریعے تہران پر دباؤ بڑھانا شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ، انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوگی جنگ
اس کے برعکس، ٹرمپ مسلسل عوامی طور پر جنگ کے جلد ختم ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایران اب زیادہ عرصے تک یہ تنازع جاری نہیں رکھ سکتا۔ٹرمپ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، ایران ایسی صورت حال چاہتا ہے جس میں امریکہ میں کمزور سیاسی قیادت اقتدار میں آئے اور اسے نظرانداز کرے، تاکہ وہ جوہری ہتھیار تیار کر سکے۔
ٹرمپ بولے، ایران صرف جوہری ہتھیار چاہتا ہے
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی بنیادی خواہش جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گیا تو پوری دنیا سنگین بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کی کوشش صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہے۔
جوہری معاہدے سے آگے بھی کئی مسائل
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ صرف جوہری معاہدے پر کام نہیں کر رہا بلکہ کئی دیگر معاملات بھی مذاکرات کی میز پر ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری مسئلے پر معاہدہ ہونے کا امکان 99.9 فیصد ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی کئی دیگر مسائل بات چیت میں شامل ہوں گے۔ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ فی الحال تہران کے ساتھ بات چیت کی فعال طور پر کوشش نہیں کر رہا۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…
الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…
راہل راج سنگھ کا شروع سے دعویٰ رہا ہے کہ وہ اور پرتیوشا دسمبر 2016…
گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…
بھارت نے سیریز کا پہلا میچ بھی 8 وکٹوں سے جیتا تھا۔ اب سیریز کا…
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…