بین الاقوامی

Mecca Joint Defence Agreement: ’’سہ فریقی دفاعی معاہدے معاہدے کو خطرہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں‘‘ ایرانی وزارت خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو سراہا

تہران: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر ایران کی وزارت خارجہ نے مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ یہ معاہدہ خطے کے ممالک کے سکیورٹی سے متعلق تصور میں بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک یہ سمجھ چکے ہیں کہ سکیورٹی ایسی شے نہیں جسے ’’جھوٹی سکیورٹی فراہم کرنے والوں‘‘ سے خریدا جا سکے۔ پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاقائی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین برس کے واقعات کے تناظر میں خطے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سکیورٹی کسی ایسی چیز کا نام نہیں جسے بیرونی یا نام نہاد سکیورٹی فراہم کرنے والوں سے حاصل کیا جا سکے۔

ایران تعاون پر مبنی سکیورٹی کا حامی

ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران کی اصولی پالیسی ہمیشہ باہمی اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر علاقائی سکیورٹی کے قیام کی حمایت کرتی رہی ہے اور ایران خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر سکیورٹی نظام کا خواہاں ہے۔ بقائی نے حالیہ علاقائی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک میں یہ تصور مضبوط ہوا ہے کہ اسرائیل خطے کے استحکام، سکیورٹی اور تعاون کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے غزہ میں جاری جنگ، لبنان اور خطے کے دیگر ممالک پر اسرائیلی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے علاقائی ممالک کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

امریکہ پر بھی عدم استحکام کا الزام

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو بھی خطے میں عدم استحکام کا ایک سبب قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیل کی وسیع حمایت اور پشت پناہی کے باعث واشنگٹن بھی خطے میں پیدا ہونے والی سکیورٹی کی صورتحال کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مؤثر علاقائی سکیورٹی نظام کو جامع اور تمام ممالک کو شامل کرنے والا ہونا چاہیے اور اس میں خطے کو درپیش حقیقی خطرات کی درست نشاندہی بھی ضروری ہے۔

’’اس معاہدے کے ایران مخالف ہونے کی کوئی وجہ نہیں‘‘

جب بقائی سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو انہوں نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے ایران کے ساتھ گہرے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ترکی، پاکستان اور سعودی عرب، تینوں ممالک کے ساتھ ہمارے گہرے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات ہیں، اس لیے یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔‘‘ بقائی نے کہا کہ ایران، پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور یہ معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ ممالک بیرونی مداخلت اور اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں اور نقطۂ نظر کی بنیاد پر سکیورٹی کے طریقے تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

ایران کی شمولیت اور ’’اسلامی نیٹو‘‘ پر کیا کہا؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، جسے بعض میڈیا حلقوں میں ’’اسلامی نیٹو‘‘ بھی کہا جا رہا ہے، تو بقائی نے ایران کی سابقہ علاقائی امن تجاویز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خود خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کی بنیاد پر سکیورٹی نظام کے قیام کا علمبردار رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران ایسے علاقائی سکیورٹی نظام کی حمایت کرتا ہے جو خطے کے اندرونی ممالک کی شراکت سے قائم ہو اور بیرونی طاقتوں کے تباہ کن اثر و رسوخ سے آزاد ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی سابقہ تجاویز، جن میں ہرمز امن منصوبہ بھی شامل ہے، اب بھی موجود ہیں اور خطے میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر انہیں مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ترکی نے بھی ایران کو خطرہ قرار دینے سے کیا انکار

اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے بھی کہا تھا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔ ہفتے کے روز اناطولیہ ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فیدان نے کہا تھا کہ سعودی عرب کی ایران پر حملہ کرنے یا اسے ختم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ ان کے مطابق ریاض آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی اور تشدد کا خاتمہ چاہتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات کے درمیان جمعہ کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Pakistan-Afghanistan Clash: پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، سوئے ہوئے لوگوں پر جنگی طیاروں نے برسائے بم

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…

2 hours ago