تہران: ایران میں خواتین کے احتجاج نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ اس بار احتجاج کی شکل غیر معمولی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایرانی خواتین کو ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ عمل محض سگریٹ پینے تک محدود نہیں بلکہ اقتدار، حجاب، سماجی پابندیوں اور خواتین کی آزادی پر عائد قدغنوں کے خلاف کھلا اعلانِ بغاوت ہے۔ ایران جیسے سخت قوانین والے ملک میں سپریم لیڈر کی تصویر جلانا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، جبکہ خواتین کا عوامی مقامات پر سگریٹ پینا بھی سماجی اور قانونی طور پر ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس کے باوجود خواتین کا اس طرح سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خوف کی دیواریں اب ٹوٹ رہی ہیں۔ ہاتھوں میں پلے کارڈ، لبوں پر سگریٹ اور آنکھوں میں بے خوفی لیے یہ خواتین یہ پیغام دے رہی ہیں کہ وہ اب مزید دباؤ برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
یہ احتجاج دراصل 2022 میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک کی ایک نئی کڑی ہے۔ مہسا امینی کی موت نے ایران میں خواتین کے حقوق، حجاب قوانین اور ریاستی جبر کے خلاف بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا تھا۔ اس وقت سڑکوں پر بڑے مظاہرے ہوئے، جنہیں حکومت نے سختی سے کچل دیا۔ تاہم احتجاج ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے ڈیجیٹل اور علامتی شکل اختیار کر لی۔ آج سوشل میڈیا اس مزاحمت کا سب سے مضبوط ہتھیار بن چکا ہے۔
خامنہ ای کی تصاویر سے سگریٹ جلانا دراصل اقتدار کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ایرانی خواتین یہ واضح کر رہی ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی، لباس اور سوچ پر ریاست کا مکمل کنٹرول اب قابلِ قبول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز چند لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں، چاہے حکومت انٹرنیٹ پابندیوں اور گرفتاریوں کے ذریعے آواز دبانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے۔
اس عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ ایران کا سنگین معاشی بحران بھی ہے۔ ملک شدید مہنگائی کی زد میں ہے، ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور روزمرہ اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ان حالات نے عوام خصوصاً خواتین کے غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران حکومتی علامتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اعلیٰ قیادت کی تصاویر جلائی گئیں۔ ایرانی حکومت احتجاج کو دبانے کے لیے مسلسل سخت اقدامات کر رہی ہے، مگر اس کے باوجود خواتین کی آواز رک نہیں پا رہی۔ یہ احتجاج اب محض مقامی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی ڈیجیٹل تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایرانی خواتین کی یہ جرات مندانہ مزاحمت دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ آزادی کی خواہش کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ دنیا بھر کی نظریں اب ایران میں خواتین کی اس خاموش مگر مضبوط بغاوت پر جمی ہوئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…
جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…
آئی پی ایس افسر ونئے کمار چوبے کو نمایاں خدمات کے لیے صدر جمہوریہ کے…
10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ مارچ سے…
مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…
راہل گاندھی نے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو برطرف کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں انتخابی…