بین الاقوامی

Iran-US War Update: امریکا-ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات، بحرین میں بھی ہائی الرٹ

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے خطے کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق ایران کے متعدد اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس تناؤ کے باعث خلیجی ممالک میں بھی سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

ہوائی اڈوں، ریلوے اور پلوں کو نقصان

رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایران کے ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بعض پل، ریلوے تنصیبات اور ایک ہوائی اڈہ بھی شامل ہیں۔ جنوبی ایران کے کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بندر عباس اور ایرانشہر میں حملوں کی اطلاعات

ذرائع کے مطابق ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ایرانشہر ایئرپورٹ اور بندر عباس کے قریب ریلوے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ بعض مقامی رپورٹس میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

بحرین میں ایئر ریڈ سائرن

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج نے بحرین میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی دعوے کے مطابق سکھیر ایئربیس پر تعینات بعض فوجی اثاثوں کو ڈرون اور میزائل حملوں میں نقصان پہنچا، تاہم امریکا اور بحرین کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک بھر میں ایئر ریڈ سائرن بجا دیے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی۔

آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی

آبنائے ہرمز کے اطراف بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس علاقے کے قریب بھی حملوں اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور خام تیل کی قیمتوں پر اثرات کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

جنوبی ایران میں بجلی کا نظام متاثر

ایران کی وزارت توانائی کے مطابق جنوبی علاقوں میں بجلی کے بعض نظام متاثر ہوئے ہیں اور بحالی کا کام جاری ہے۔ حکام نے عوام سے بجلی کا محتاط استعمال کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

عالمی منڈیوں پر اثرات کا خدشہ

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور خام تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔

Abul Kalam

Recent Posts

Pakistan-Afghanistan Clash: پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، سوئے ہوئے لوگوں پر جنگی طیاروں نے برسائے بم

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…

2 hours ago