ایران امریکی جنگی توانائی بحران
واشنگٹن/تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ نے عالمی توانائی کے نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کو تیل اور گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کے خاتمے کے بعد بھی آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے، تب بھی تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنا مشکل ہوگا۔ جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین اس بحران کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہ خلیج فارس سے روانہ ہونے والے تیل بردار جہازوں کو خریدار ممالک تک پہنچنے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کا وقت لگتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو بھی تقریباً اتنا ہی عرصہ ہو چکا ہے، جس کے باعث کئی جہاز راستے میں پھنس گئے یا تاخیر کا شکار ہوئے۔ اب ان تاخیروں کے اثرات عالمی سطح پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور مختلف ممالک کو تیل کی کمی محسوس ہونے لگی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق نقصان کا اندازہ ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معیشت کی رفتار میں کمی متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو جائے اور تیل کی پیداوار دوبارہ شروع ہو جائے، تب بھی گیس کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے اثرات 2026 کے آخر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں اور اس دوران عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قلت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک، بشمول سعودی عرب، کے پاس تیل نکالنے کا مناسب انفراسٹرکچر موجود ہے، لیکن گیس کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جنگ کے دوران بمباری کے نتیجے میں تیل اور گیس کے درجنوں پلانٹس متاثر ہوئے، جن کی مرمت میں کئی ماہ اور اربوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ فاتح بیرول کے مطابق اس جنگ نے گیس کی عالمی سپلائی چین کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ پہلے ایل این جی کو ایک قابل اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا تھا، لیکن روس گیس بحران اور اب مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے اس اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گیس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ متوقع ہے۔ موجودہ حالات یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ دنیا ایک نئے توانائی بحران کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں تیل اور گیس کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں اور عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…