ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ایران نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایک اہم بیان میں کہا کہ تہران سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ یہ مذاکرات یکطرفہ شرائط پر نہیں بلکہ باہمی احترام کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اس تجویز پر اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی نمائندے وٹکوف کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات (Iran US Relations) کا راستہ کھلا ہے، لیکن یہ باہمی مفادات اور خدشات کو تسلیم کرنے پر مبنی ہونا چاہیے۔
فون آیا تھا—ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ (Donald Trump On Iran US Policy)
ایران کے اس نسبتاً نرم مؤقف پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود فون کر کے بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اپنے مخصوص انداز میں ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ امریکا سے بار بار مار کھا کر تھک چکے ہیں، اسی لیے اب بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ ایران میں جاری تشدد اور مظاہرین کی گرفتاریوں کو دیکھتے ہوئے امریکا کو مذاکرات سے پہلے کارروائی بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔
جنگ اور صلح: دونوں آپشنز کے لیے تیار (Iran US Conflict)
اگرچہ تہران نے مذاکرات کی میز پر آنے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن اس کے تیور نرم نہیں پڑے ہیں۔ وزیر خارجہ عراقچی نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہم عزت و احترام کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر نوبت آئی تو ہم جنگ کے لیے بھی پوری طرح تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عراقچی نے ملک میں جاری مظاہروں کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر غیر ملکی طاقتوں کے حمایت یافتہ ’دہشت گرد‘ ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…