بین الاقوامی

Bilawal Bhutto threats India Over Indus Water Treaty: امریکہ-ایران معاہدہ کے درمیان پاکستان سے آئی دھمکی، بلاول بھٹو نے کہا- ’ہم بھارت سے جنگ کے لئے… ‘

پاکستان جوسندھ طاس معاہدے پربھارت سے التجا کرتا رہا تھا، ایک بارپھراشتعال انگیزبیان بازی کا سہارا لے رہا ہے۔ اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپرپاکستان کی اپیلوں کومسترد کرتے ہوئے بھارت نے دنیا کوواضح پیغام دیا ہے کہ خون اورپانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ اگرپاکستان سندھ کا پانی چاہتا ہے تواسے پہلے سرحد پارسے ہونے والی دہشت گردی کوختم کرنا ہوگا۔ جب پاکستان کے تمام حربے ناکام ہوگئے تواب وہ اپنے پرانے اوربوسیدہ ہتھکنڈوں کی طرف لوٹ آیا ہے۔ اس نے بھارت کودھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگراس نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسلام آباد جوابی کارروائی کے لیے تیارہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تھا۔ تقریباً 14 ماہ بعد پاکستان نے اب دھمکیاں دینے کا سہارا لیا ہے۔ شہبازشریف کی حکومت میں شامل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ اسلام آباد یہ برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹونے بھارت پرپاکستان کا پانی روکنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم دریائی پانی کے اپنے جائزحصے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاکستان اپنے حصے اورحقوق کے لیے لڑے گا، پانی کے بہاؤکوروکنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔”

بلاول بھٹو نے پہلے بھی دیا تھا بیان

پاکستان کے سابق وزیرخارجہ بلاول بھٹونے سندھ طاس معاہدے پرایسا بیان دیا ہو۔ وہ پہلے بھی خون کی ندیاں بہانے جیسے بیانات دے چکے ہیں۔ گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کومعطل کرنے سمیت کئی اقدامات کئے تھے۔ یہ 1960 کا معاہدہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان دریائی پانی کوتقسیم کرتا ہے۔ بھارت کے اس اقدام سے پاکستان میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ اسلام آباد مشتعل ہے اور اسے جنگی کارروائی قرار دے رہا ہے۔

بھارت کا اقوام متحدہ میں پاکستان کو منہ توڑ جواب

بھارت بارہا بین الاقوامی فورمزپرکہہ چکا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کوپناہ اورتربیت فراہم کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک پاکستان ان دہشت گردوں کوختم نہیں کرتا۔ کل 18 جون کویواین ایس سی کے 62 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کی فرسٹ سکریٹری، انوپما سنگھ نے واضح کیا کہ دہلی سندھ آبی معاہدے (آئی ڈبلیوٹی) پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1960 کے معاہدے کوایک دائمی حق نہیں سمجھا جاسکتا، جواحتساب اورموجودہ حقائق سے مکمل طورپرالگ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar EC Meeting: تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کی اہم میٹنگ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں کمشنر بھی شریک

چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…

31 seconds ago

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

20 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

54 minutes ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

1 hour ago