بین الاقوامی

Iran Strait of Hormuz Warning: آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت مؤقف، قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف ہوگی کارروائی، امریکہ کو بھی انتباہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کو مقررہ بحری راستوں اور نیوی گیشن کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ایران کی اس وارننگ کو عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی فوجی قیادت کا بیان

ایران کی فوجی قیادت نے جمعرات کو تیل بردار ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت صرف منظور شدہ سمندری راستوں کا استعمال کیا جائے۔ حکام کے مطابق تمام جہازوں کو بحری سلامتی اور نیوی گیشن سے متعلق تمام ضوابط کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔ایران نے واضح کیا کہ جو جہاز مقررہ راستوں سے ہٹ کر چلیں گے یا قواعد کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات اس اہم آبی گزرگاہ میں سمندری سلامتی برقرار رکھنے اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

امریکہ کو بھی سخت پیغام

ایران کی یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب قطر میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں امریکی فوج نے بحرین میں ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں سمندری تجارت اور بحری جہازوں کی بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ ایران نے اس پیش رفت پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس کے مقرر کردہ ضوابط پر عمل تمام بحری جہازوں کے لیے لازمی ہوگا۔ اگر کوئی جہاز ان ہدایات کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کی سلامتی کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوگی اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایران نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر امریکی فوج نے کسی بھی نوعیت کی مداخلت کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

سمندری راستوں اور فیس پر اختلاف

ایران اور امریکہ کے درمیان ماضی میں ایک عارضی مفاہمت ہوئی تھی، جس کے تحت 60 روز تک بحری جہازوں کو بغیر کسی فیس کے اس سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اب ایران چاہتا ہے کہ ان بحری راستوں کا کنٹرول اس کے پاس ہو اور مستقبل میں جہازوں سے گزرنے کی فیس بھی وصول کی جائے۔ امریکہ اور متعدد خلیجی ممالک نے اس مطالبے کی مخالفت کی ہے۔اسی دوران عمان اور اقوام متحدہ نے عمان کے ساحل کے قریب ایک نیا بحری راستہ متعارف کرانے کی کوشش کی، تاہم گزشتہ ہفتے اس علاقے میں کئی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد خطے میں سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Impeachment Notice Against CEC: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کا نوٹس: کیا ہے معاملہ؟

اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…

2 hours ago