مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور جنگ کے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پورا خطہ جنگی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ایران نے جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں اور عرب ممالک میں موجود اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازعہ مزید پھیلتا ہے تو یہ عالمی سطح پر ایک بڑے جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایران نے اس واقعے کے بعد اپنی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور خلیج کے کئی علاقوں میں جارحانہ کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی فورسز خلیج فارس اور آس پاس کے سمندری علاقوں میں امریکی اور اتحادی افواج کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی اس جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس اور چین کی ممکنہ مدد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں طاقتیں مختلف طریقوں سے ایران کی معاونت کر رہی ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی بحری سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس اپنے سیٹلائٹ نظام کے ذریعے امریکی فوجی اہداف کی معلومات ایرانی کمانڈرز تک پہنچا رہا ہے۔ اس انٹیلی جنس تعاون کے باعث ایران کو امریکی جنگی جہازوں اور فضائیہ کے اثاثوں پر زیادہ درستگی کے ساتھ حملے کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ہونے والے حملے میں بھی روسی معلومات کا کردار ہو سکتا ہے۔
اسی دوران آبنائے ہرمز میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک بن گئی ہے۔ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس سمندری راستے پر ایران نے مبینہ طور پر کئی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع سے سامنے آنے والی تصاویر میں آگ کے شعلوں میں گھِرے ٹینکر دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران کم از کم دو آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ کویت کے ساحل کے قریب ایک امریکی پرچم بردار ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ چین کے حوالے سے بھی اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس حلقوں کے مطابق چین ایران کو مالی معاونت، ہتھیاروں کے پرزہ جات اور میزائل پروگرام سے متعلق تکنیکی مدد فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ تعاون براہِ راست کے بجائے روس کے ذریعے ایران تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
جنگی کشیدگی کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ بھی ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں لیڈروں نے خطے کی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بعد روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پر عرب ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اڈے دراصل سلامتی نہیں بلکہ خطرے کا سبب بن سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایران، روس اور چین کا تعاون مزید گہرا ہو گیا تو یہ تنازع ایک وسیع عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگ کا مرکز بن سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…