بین الاقوامی

Iran warns US bases: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا سخت انتباہ، کہا-امریکی مداخلت کی صورت میں امریکی اڈے اور شپنگ مراکز ہوں گے جائزہدف

تہران: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے اندرونی معاملات میں فوجی مداخلت کی تو ایران امریکی فوجی اڈوں اور تجارتی شپنگ مراکز کو جوابی کارروائی کے لیے جائز ہدف سمجھے گا۔ قالیباف نے کہا: ’’اگر امریکہ ایران یا مقبوضہ علاقوں کے خلاف فوجی اقدام کرتا ہے تو امریکی فوجی اور شپنگ مراکز کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔ ہم صرف کارروائی کے بعد ردعمل تک خود کو محدود نہیں رکھتے۔‘‘ ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج شدت اختیار کر چکا ہے۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایرانی ردعمل

یہ بیان اس کے بعد آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو کچلنے کے لیے طاقت استعمال کرتی ہے اور ہلاکتیں ہوتی ہیں تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’ایران سنگین مشکلات میں ہے۔ اگر مظاہرین کو مارا گیا تو ہم سخت کارروائی کریں گے، ایسی جگہ ضرب لگائیں گے جہاں اسے سب سے زیادہ تکلیف ہو۔‘‘

ایران میں احتجاج میں تیزی

پالیسی ریسرچ ادارے انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مطابق 7 جنوری کے بعد ایران میں احتجاج کی شدت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر تہران اور شمال مغربی علاقوں میں۔ ادارے نے کہا کہ حکومت نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے اور بعض صوبوں میں مظاہروں کو دبانے کے لیے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کی زمینی فورسز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

رہبراعلیٰ خامنہ ای کا امریکہ پر الزام

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے پیچھے واشنگٹن کا ہاتھ ہے۔ 9 جنوری کو ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں انہوں نے کہا: ’’یہ مظاہرین امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے احتجاج کرنے والوں کو ’’تخریب کار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی صورت غیر ملکی ایجنٹوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 51 مظاہرین، جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کم از کم 200 مبینہ ’’فساد انگیز عناصر‘‘ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ بندش اور عالمی ردعمل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران میں مکمل انٹرنیٹ بندش پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مظاہرین کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانا ہے۔ دوسری جانب ایران کے اٹارنی جنرل محمد موحدی آزاد نے خبردار کیا کہ احتجاج میں شامل افراد کو ’’خدا کا دشمن‘‘ سمجھا جائے گا، جس کی سزا موت ہو سکتی ہے۔ معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایران کے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کو منظم کرتے ہوئے شہری مراکز پر قبضہ اور کنٹرول کی حکمت عملی اپنائیں۔

معاشی دباؤ اور حکومتی اقدامات

حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی سخت کر دی ہے اور غریب طبقے کے لیے ماہانہ تقریباً 7 امریکی ڈالر کی سبسڈی کا اعلان کیا ہے، تاہم عوامی بے چینی بدستور برقرار ہے۔ ایران میں یہ مظاہرے 2022-23 کے بعد سب سے بڑے احتجاج قرار دیے جا رہے ہیں، جو معاشی مشکلات، سیاسی جمود اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کی علامت ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

3 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

3 hours ago