ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی۔
تہران: ایران میں مہنگائی کے خلاف گزشتہ چند دنوں سے عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ جنریشن زی (Gen-Z) کے ان احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کی ہلاکتوں کے بعد امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کارروائی کی بات کہی تھی۔ اسی تناظر میں اب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا سخت ردعمل
وزیر خارجہ عراقچی نے ایران کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو یکسر مسترد کر دیا۔ دراصل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پُرامن مظاہرین کو مارتا ہے تو امریکہ کارروائی کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے کہا کہ اگر ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی تو ایران کی فوج جانتی ہے کہ کہاں نشانہ لگانا ہے۔
تقریباً 21 صوبوں میں ہو رہے احتجاجی مظاہرے
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ اتوار سے قومی کرنسی ریال کی تیز گراوٹ کے خلاف تقریباً 21 صوبوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا کہ زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے متاثر ایرانی شہریوں کا پُرامن احتجاج کرنا ان کا حق ہے۔
عراقچی نے پولیس اسٹیشن پر حملے کا کیا ذکر
اس دوران انہوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملے اور اہلکاروں پر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکے جانے کا بھی ذکر کیا اور تشدد پر اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہوئے ہلاک
ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے دو صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے مغربی صوبے لورستان کے سیاسی، سکیورٹی اور سماجی امور کے نائب گورنر سعید پورعالی نے حالیہ احتجاجات کی وجہ معاشی شکایات کو قرار دیا۔ امریکہ کی ٹیرف پالیسی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ کرنسی میں اتار چڑھاؤ اور روزگار و روزی روٹی سے متعلق خدشات ظالمانہ مغربی پابندیوں کا نتیجہ ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 2018 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ یہ جوہری معاہدہ 2015 میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدہ توڑنے اور دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد سے ایرانی ریال تیزی سے کمزور ہوا ہے۔ اس وقت کھلے بازار میں امریکی ڈالر 13 لاکھ 50 ہزار ریال سے زائد کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…
منگل کی علی الصبح 4:27 بجے منی پور کے تامینگ لونگ میں بھی 2.9 شدت…
دماغ ہماری جذبات، رویوں اور جسم کی مختلف سرگرمیوں کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے،…
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…
سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…