بین الاقوامی

Middle East Crisis: ہم بھی جنگ کے لیے تیار ہیں، آپ شروع تو کر سکتے ہیں مگر ختم نہیں: ایرانی سفیر محمد فتح علی

نئی دہلی: بھارت میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے ہفتہ کے روز کہا کہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران نے کچھ بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم انہوں نے اس معاملے کی مزید عملی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے یہ بات نئی دہلی میں منعقد ہونے والے انڈیا ٹوڈے کانکلیو 2026 کے دوران کہی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران نے بھارت کے لیے خصوصی تعاون کیا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے مضبوط سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان اطلاعات ہیں کہ دو بھارتی ایل پی جی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ دونوں جہاز ”شیوالک“ اور ”نندا دیوی“ کے نام سے جانے جاتے ہیں اور چند دنوں میں بھارت پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ ٹینکرز سرکاری کمپنی شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے بیڑے کا حصہ ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر عالمی توانائی منڈیوں پر فوری طور پر پڑتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق دو ایل پی جی ٹینکروں کے محفوظ گزرنے کے بعد مزید جہاز بھی جنگ سے متاثرہ علاقے کو عبور کرنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔

ایرانی سفیر نے اس موقع پر خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے ایران کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ٹام ہاک میزائل، جس نے ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ بنایا اور تقریباً 170 طالبات ہلاک ہو گئیں، خطے میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے سے داغا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ عام شہریوں یا دیگر ممالک کے اثاثوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، تاہم اگر ایران کے اندر حملے کیے جائیں گے تو تہران اس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

محمد فتح علی نے مزید کہا کہ ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے، لیکن اس کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتی بات چیت رہی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمہ ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ”ہم بھی جنگ کے لیے تیار ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ جنگ شروع تو کی جا سکتی ہے مگر اسے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا“۔ ایرانی سفیر نے اس موقع پر حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جاری کشیدگی کے باعث تکنیکی مسائل پیدا ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس رابطے میں کچھ تاخیر ہوئی، تاہم دونوں لیڈروں نے علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

4 minutes ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

43 minutes ago

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

10 hours ago