بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو عملی شکل دینے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی تجارتی حکام ایک بار پھر بھارت کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں 10 سے 12 دسمبر تک تین روزہ مذاکرات ہوں گے۔ اس اہم ملاقات میں امریکی وفد کی قیادت ڈپٹی یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو (یو ایس ٹی آر) رک سوئٹزر کریں گے، جبکہ بھارتی فریق کی سربراہی مشترکہ سکریٹری دَرپن جین کے حوالے ہوگی۔
ٹیرِف تنازع اور پس منظر
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ نے روس سے بھارت کی خام تیل کی خریداری کو جواز بناتے ہوئے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد ڈیوٹی اور اضافی 25 فیصد جرمانہ عائد کر رکھا ہے۔ اس ٹیرِف بوجھ نے بھارتی برآمدکنندگان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اس سے قبل امریکی حکام 16 ستمبر کو بھارت آئے تھے، جبکہ 22 ستمبر کو بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل تجارتی مذاکرات کے لیے امریکہ گئے تھے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بار کے مذاکرات میں امریکہ کے ساتھ مجوزہ سمجھوتے کے پہلے حصے کو حتمی شکل دینے پر توجہ دی جائے گی۔
فریم ورک ڈیل کی امید
تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت کو امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک امریکہ کے ساتھ ایک فریم ورک ٹریڈ ڈیل طے ہو جائے گی۔ چونکہ مکمل تجارتی معاہدہ فوری طور پر ممکن نہیں، اس لیے فی الحال دونوں جانب ایک ڈھانچہ جاتی سمجھوتے پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ بھارتی ایکسپورٹرز کو ٹیرِف سے متعلق فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دو سطحوں پر مذاکرات جاری
بھارت اور امریکہ دو متوازی لائنوں پر مذاکرات کر رہے ہیں: 1. ٹیرِف کے مسائل حل کرنے کے لیے فریم ورک ڈیل، 2. طویل مدتی جامع تجارتی معاہدہ۔ فروری 2025 میں دونوں ممالک کی قیادت نے حکام کو بات چیت تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اب تک چھ دورے ہو چکے ہیں، اور ہدف یہ ہے کہ 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 191 بلین ڈالر سے بڑھا کر 500 بلین ڈالر تک پہنچایا جائے۔
امریکہ — بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار
امریکہ مسلسل چوتھے سال بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2024-25 میں دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 131.84 بلین ڈالر رہا، جس میں 86.5 بلین ڈالر بھارتی برآمدات تھیں۔ بھارت کی مجموعی برآمدات میں امریکا کا حصہ 18 فیصد ہے۔ تاہم حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اکتوبر میں بھارت کی امریکہ کو برآمدات 8.58 فیصد کم ہو کر 6.3 بلین ڈالر رہ گئیں، جس کی بڑی وجہ بھاری ٹیرِف بتائی جا رہی ہے۔ تین روزہ مذاکرات سے دونوں ممالک کو تجارتی رکاوٹیں کم کرنے اور مستقبل کی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی امید ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…