اگر ہم دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو نو ممالک ایسے ہیں، جو ایٹمی طاقت کے مالک ہیں۔ ان میں بھارت، امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس، اسرائیل، شمالی کوریا اور پاکستان شامل ہیں۔ کچھ ممالک نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ بھی کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور چین خفیہ طور پر ایٹمی تجربات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان ہندوستان کے لیے ایک بڑا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین، پاکستان، روس اور شمالی کوریا ایٹمی تجربات پر کام کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے پینٹاگون کو ایٹمی تجربہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے دعوے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر ٹرمپ کے دعوے پر یقین کیا جائے توہندوستان کو ہائیڈروجن بم کا تجربہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
بھارت کے پاس بہترین موقع ہے
‘انڈیا ٹوڈے’ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان کو ہائیڈروجن بم بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پوکھران جوہری تجربات کے ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد، ڈی آر ڈی او کے سائنسداں کے سنتھانم نے مئی 1998 میں کہا تھا کہ ہائیڈروجن یا تھرمونیوکلیئر بم کم تبہائی مچانے والے بم ہیں اور یہ ملک کے اسٹریٹجک مقاصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ جوہری توانائی کی وزارت کے اس وقت کے چیئرمین راج گوپال چدمبرم نے ان دعوؤں کی حمایت نہیں کی تھی۔
پاکستان بھارت کے ہائیڈروجن بم سے خوفزدہ
پاکستان کو خدشہ ہے کہ اگر بھارت نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہائیڈروجن بم کو ایٹم بم سے زیادہ تباہ کن سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے خبردار کیا ہے کہ بھارت جلد ہی تھرمونیوکلیئر یا ہائیڈروجن بم کا تجربہ کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
شمالی کوریا کا یہ میزائل تجربہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے دوران بھی ہوا…
بھاونا پٹیل کی کھیلوں کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2021 میں…
وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورَو داس نے سوشل…
2014 میں صرف پانچ شہروں میں 248 کلومیٹر میٹرو لائنیں تھیں، اب روزانہ ایک کروڑ…
آئی آر جی سی کی بحریہ کی الیکٹرانک وارفیئر یونٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ…
جمعرات کو بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مہم کے پہلے مرحلے…