بین الاقوامی

Gaza-Israel War: غزہ میں بھوک سے مائیں پریشان، قحط زدہ بے گھر فلسطینی ماں اپنے بچوں کو کچھوے کھلانے پر مجبور

فلسطینی عرب خاتون اسرائیل کی طرف سے بد ترین ناکہ بندیوں کے باعث اپنے بچوں کو بھوکوں مرنے سے بچانے کے لیے تیسری بار کچھوے پکا کر کھلانے پر مجبور ہو گئی ہے۔ غزہ کی رہائشی یہ فلسطینی عرب 61 قنان اسرائیلی فوج کی بمباری سے بے گھر ہونے کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ خان یونس میں لگے خیمے میں نقل مکانی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

پورے غزہ میں قحط کی صورت حال

اسرائیل کی فوج نے 2 مارچ سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر کے کھانے پینے کی تمام تر اشیاء کے علاوہ ادویات اور ایندھن کی ترسیل کی ان لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے لیے بلاک کر رکھی ہے۔ جس سے پورے غزہ میں قحط کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ اس لیے بمباری سے بچ گئے درختوں کے پتے کھانے کے علاوہ یہ فلسطینی اسرائیلی جبر اوراپنی عالمی برادری کی بے بسی اور بےحسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچھوے جیسے جانوروں کو بھی مل جائیں تو خوراک کے لیے استعمال کر کے بچوں کی جان بچانے کی کوشش میں ہیں۔ اس سے پہلے غزہ میں اپنے بچوں کوگھوڑوں کا گوشت کھلا کر بھوکوں مرنے سے بچانے پر مجبور ہونے کی خبریں بھی علاقائی اور عالمی میڈیا کے ذریعے سامنے آچکی ہیں۔

میرے پاس اس کا کوئی بہتر متبادل نہیں

ماجدہ قنان کہتی ہیں کہ ان کے بچے کچھووں سے خوفزدہ ہوتے تھے ۔ لیکن اب میں مجبور ہوں کہ اس کے علاوہ انہیں کھلانے کو کچھ دستیاب نہیں۔ مجھے امید ہے جب کچھوے کی جلد کا اوپر والا سخت حصہ اتر جاتا ہے تو یہ عام گوشت کی طرح ہی نظر آتا ہے۔ اور پھر اسے پکایا جا سکے گا۔ وہ کہہ رہی تھیں شروع میں ان کے بچے بہت خوفزدہ ہوتے تھے، مگر میں نے انہیں بتایا ہے کہ اس کا گوشت بھی ویل کی طرح ہی ہوتا ہے۔ ماجدہ قنان جب یہ کہہ رہی تھیں تو چولہے پر ہنڈیا میں موجود کچھوے کے سر خ سرخ گوشت کو بھی دیکھ رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا اب بھی سب بچے اسے کھانے پر مائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ‘ لیکن میرے پاس اس کا کوئی بہتر متبادل موجود نہیں ہے۔ اس لیے اب تیسری بار کچھوا ہی اپنے بچوں کو کھلانے پر مجبور ہوں۔

دنیا میں سالم بکرے اور دنبے بھون کر کھا جانے کا کلچر

یاد رہے آٹھ ارب انسانوں کی اس دنیا جس میں پچاس سے زائد مسلم ممالک ہیں اور وسیع عرب دینا ہے غزہ کے تقریباً 23 سے چوبیس لاکھ کے قریب لوگ اسی طرح خوراک سے محروم ہیں۔ مگر کئی بڑے ملک اسرائیل کے سر پرست اور اتحادی ہیں اور بہت سے ملک اسرائیل اور امریکہ کے سامنے بے بس ہیں کہ ان کی ناراضی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ وگرنہ اب تو دنیا میں سالم بکرے اور دنبے بھون کر کھا جانے کا کلچر ہے۔ نیز بہت سے ملکوں کے اعلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کے دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…

40 minutes ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

10 hours ago