نئی دہلی: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے اعلان کا مذاق اڑایا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیان پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 20 فیصد ٹیکس بہت زیادہ ہے اور اگر اس اہم آبی گزرگاہ کے استعمال پر کوئی معاوضہ لیا جانا چاہیے تو ایران اس کے لیے مناسب اور کم شرح مقرر کرے گا۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر لکھا کہ امریکی صدر ایک لحاظ سے درست کہہ رہے ہیں کہ جو ملک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بناتا ہے، اسے اس خدمت کا معاوضہ ملنا چاہیے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا، لیکن 20 فیصد ٹیکس غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، اس لیے ایران مناسب شرح پر اکتفا کرے گا۔
POTUS is absolutely right. Whoever provides secure and safe passage of commercial vessels through the Strait of Hormuz should be compensated for this service.
Iran has always been the GUARDIAN of the Strait and will remain so FOREVER.
20% is of course too much. We will be fair
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 13, 2026
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس عائد کی جائے گی۔ انہوں نے امریکہ کو “آبنائے ہرمز کا محافظ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بحری راستہ امریکی نگرانی میں دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا، تاہم ایران سے تعلق رکھنے والے جہازوں اور ایرانی یوزر کو اس راستے کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کے بغیر بھی کھلی رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کی نام نہاد ناکہ بندی کو دوبارہ نافذ کر رہا ہے، جس کے تحت صرف ایرانی جہازوں یا ایران سے وابستہ کمپنیوں کے لیے اس آبی راستے پر پابندی ہوگی، جبکہ دیگر تمام ممالک کے لیے یہ بحری گزرگاہ غیر جانبدارانہ انداز میں دستیاب رہے گی۔
At 4:45 p.m. ET today, U.S. Central Command began launching the third consecutive night of strikes against Iran, at the Commander in Chief’s direction. These strikes will continue imposing a heavy cost on Iranian forces and degrade their ability to attack innocent civilians and…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 13, 2026
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کا محافظ ہوگا اور اس ذمہ داری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر کارگو پر 20 فیصد ٹیکس وصول کی جائے گی تاکہ اس حساس اور غیر مستحکم خطے میں سکیورٹی اور بحری نقل و حمل کا نظام برقرار رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اس آبی راستے کے کنٹرول اور سلامتی کو لے کر کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔ امریکہ اسے بین الاقوامی تجارت کے لیے محفوظ رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، جب کہ ایران بھی اس خطے میں اپنے کردار اور اثر و رسوخ پر زور دیتا رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…