اسرائیل نے گذشتہ ہفتے دوبارہ سے بمباری اورزمینی کارروائیاں شروع کرکے دوماہ سے جاری جنگ بندی کوختم کردیا تھا۔ اسرائیل بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس پردباؤ میں اضافہ کررہا ہے۔ دوسری جانب، غزہ میں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ منگل 18 مارچ سے اسرائیل کی جانب سے بڑے فوجی حملوں کے دوبارہ آغازکے بعد اب تک کم ازکم 830 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
حماس کے پاس ابھی تک 59 اسرائیلی قیدی باقی ہیں۔ سات اکتوبر2023 کواسرائیل پرغیر معمولی حملے کے دوران حماس نے تقریبا 250 افراد کوقیدی بنا لیا تھا۔ حماس نے اسرائیل پرالزام عائد کیا ہے کہ اس نے لڑائی ختم کرنے کے لیے مستقل معاہدے پرمذاکرات میں وساطت کاروں کی کوششیں برباد کردی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کے احکام اس لیے دیئے کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ وسیع کرنے سے متعلق تجاویزمسترد کردیں۔ نیتن یاہو نے کل بدھ کے روزایک بارپھردھمکی دی ہے کہ اگرحماس نے بقیہ قیدی رہا نہ کئے توغزہ کی اراضی پرقبضہ کرلیا جائے گا۔