بین الاقوامی

Gul Plaza Mall Fire: کراچی کے گل پلازہ مال میں آتشزدگی کا معاملہ، تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بڑا دعویٰ، فجر کی نماز کے بعد ایکٹیو ہوئی ریسکیو ٹیم

اسلام آباد: پاکستان کے کراچی میں گل پلازہ مال میں 17 جنوری کو لگنے والی شدید آگ کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کو بتایا گیا کہ آگ لگنے کے ابتدائی اہم گھنٹوں میں ریسکیو خدمات دیر سے پہنچیں اور اندر پھنسے لوگوں کو نکالنے میں ناکام رہیں۔

مال مینجمنٹ کا موقف

یہ دعویٰ گل پلازہ مال مینجمنٹ کمیٹی کے صدرتنویر پاستہ نے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی والے سنگل جج کمیشن کے سوالات کے جواب میں کیا۔ پاستہ نے کہا کہ واقعے کے وقت عمارت کے ایگزٹ کھلے اور کام کر رہے تھے، جبکہ چشم دید گواہوں نے بتایا تھا کہ ایگزٹ بند تھے۔

17 جنوری کی شب گل پلازہ میں لگنے والی بھیانک آگ میں 80 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد عوام میں غصہ پھیل گیا اور سندھ حکومت اور کراچی کے میئر پر بروقت کارروائی نہ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔

ریسکیو کی تاخیر اور دیگر تفصیلات

ڈان کے مطابق، فائر ڈیپارٹمنٹ کے بیان کو رد کرتے ہوئے پاستہ نے کہا کہ پہلی فائر ٹینڈر رات 10:55 بجے پہنچی، حالانکہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ رات 10:37 پر پہنچی۔ حالانکہ، 20 منٹ بعد پانی ختم ہو گیا، جس کے بعد دو مزید فائر ٹینڈرز تقریباً 11:30 بجے پہنچیں۔

پاستہ نے بتایا کہ واقعے کے وقت مال میں 1,153 دکانیں تھیں، جن میں 3,456 دکاندار اور عملہ موجود تھا۔ عمارت کے اندر تقریباً 250 سے 300 گاہک موجود تھے۔ زیادہ تر لوگوں کو ایگزٹ استعمال کر کے نکال لیا گیا، لیکن میزینائن فلور پر موجود افراد کو بچایا نہیں جا سکا۔

فجر کی نماز کی وجہ سے ریسکیو میں تاخیر

پاستہ نے کہا، ’’بچاؤ کی خدمات اصل میں فجر کی نماز کے بعد ایٹیو ہوئی تھیں، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی کیونکہ آگ قابو سے باہر ہو گئی تھی۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس عمارت کے اندر داخل ہونے اور میزینائن فلور سے باقی ماندہ افراد کو بچانے کے لیے کوئی اوزار، ماسک یا سازوسامان نہیں تھا، اور آگ بجھانے کے لیے کوئی فوم بھی موجود نہیں تھا۔

پاستہ نے ریسکیو سروس پر مکمل ناکامی اور غیر عملی ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ ایمرجنسی لائٹ کے لیے چھت پر سات جنریٹر نصب تھے، جن میں سے پانچ کام کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مال مینجمنٹ نے لوگوں کے کالز اور بتائی گئی جگہوں کی بنیاد پر کئی افراد کو بچایا، تاہم ریسکیو-1122 اور فائر بریگیڈ کے پاس محدود سہولیات کی وجہ سے بہت سے افراد کو نہیں نکالا جا سکا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Adani Power: اڈانی پاور اور ڈروک گرین پاور بھوٹان میں 770 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور منصوبہ قائم کریں گے

یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…

1 hour ago