بین الاقوامی

government wants to exclude Imamoglu from the presidential election race: حکومت امام اوغلو کو صدارتی انتخابی دوڑ سے باہر کرنا چاہتی ہے، ریپبلکن پیپلز پارٹی کا دعویٰ

اتوار کی شام استنبول میں میئر اکریم امام اوگلو کو جیل منتقل کیے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ ان دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب اتوار کے روز ڈیوٹی پر موجود فوجداری مجسٹریٹ عدالت نے بلدیہ کے خلاف حکام کی جانب سے بدعنوانی کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر استنبول کے میئر کے ساتھ 18 مشتبہ افراد کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔

ریپبلکن پیپلز کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری سیاسی طور پر محرک ہے۔ امام اوغلو کو 2028 کے صدارتی انتخابات میں اردوغان کو چیلنج کرنے والا سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں انتخابی دوڑ سے ہٹانا چاہتی ہے۔ ترک حکومت اور عدلیہ نے سیاسی مداخلت کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عدالت نے فیصلہ آزادانہ طور پر لیا اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی ضروری تھی۔

واضح رہے  کہ امام اوغلو نے 2019 میں استنبول کے میئر کا انتخاب جیت کر اردگان کی پارٹی کو بڑا جھٹکا دیا تھا۔ انتخابی دھاندلی کے الزامات کے بعد دوبارہ انتخابات ہوئے اور اکریم امام اوغلو اس سے بھی بڑے مارجن سے جیت گئے۔ ان کی مقبولیت انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے مضبوط ترین امیدوار بناتی ہے۔

اس کے بعد ترک حکومت نے اکرم امام اوگلو کی ڈیوٹی معطل کر کے انہیں جیل میں ڈال دیا۔ انہیں متعدد دیگر ملزموں کے ساتھ مرمرہ جیل، جسے سلیوری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، استنبول کے مغرب میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کا تعلق اپوزیشن کی ریپبلکن پیپلز پارٹی سے ہے۔

دریں اثناء اکریم امام اوگلو نے ترکوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی گرفتاری کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کریں۔ X پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں انہوں نے کرمنل مجسٹریٹ کورٹ کے فیصلے کو ملک کی جمہوریت پر “داغ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا ہم مل کر اپنی جمہوریت سے اس داغ کو مٹا دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ترکیہ کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ میرا مقدمہ “غیر منصفانہ” تھا۔

میں نہیں جھکوں گا

اوگلو نے زور دیا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی دباؤ کے سامنے جھکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں ثابت قدم اور مضبوط رہوں گا اور جھکوں گا نہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے اس عمل کو منظم کیا ہے ان کا محاسبہ کیا جائے گا۔

اردگان کے سیاسی حریف

واضح رہے گرفتار ہونے والوں میں اوگلو کے علاوہ میونسپلٹی سے منسلک میڈیا کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین مرات اونگون اور استنبول پلاننگ ایجنسی کے چیئرمین بگرا گوکس اور دیگر افراد بھی شامل ہیں۔ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت اور یورپی رہنماؤں نے صدر ایردوان کے اہم ترین سیاسی حریف کے خلاف ان اقدامات کو سیاسی بنیادوں پر قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چھٹی تفتیش

واضح رہے مارچ 2019 میں پہلی بار میئر منتخب ہونے کے بعد سے استنبول کے میئر کے خلاف یہ چھٹی اور دو ماہ سے بھی کم عرصے میں تیسری تحقیقات ہیں۔ اکرم اوگلو نے اس وقت شہرت حاصل کی تھی جب انہوں نے جون 2019 میں الیکشن جیت کر استنبول کے میئر کے لیے ایردوان کے امیدوار کو بے دخل کردیا تھا۔

اس اقدام سے ترک لیرا کی قدر میں زبردست کمی ریکارڈ کی گئی۔ ترکی لیراکا بینچ مارک BIST 100 انڈیکس 8 فیصد  گر گیا۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی عدم استحکام ترکی کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتا ہے۔ میئر اکریم امام اوغلو نے گرفتاری سے قبل خبردار کیا تھا کہ اس کارروائی سے ترکی کی بین الاقوامی ساکھ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi to Inaugurate 10th Edition of IMC: ایم مودی آج ’انڈیا موبائل کانگریس‘ کے 10ویں ایڈیشن کا کریں گے افتتاح

آئی ایم سی 2026 میں 9 بڑے شعبوں کو شامل کیا جائے گا، جن میں…

50 minutes ago

White House Praises PM Modi-Trump Rrelationship: وائٹ ہاؤس نے بھارت کو امریکہ کا مضبوط ترین اتحادی قرار دیا، پی ایم مودی اور ٹرمپ کے تعلقات کی بھی تعریف

بھارت اور امریکہ نے مختلف حکومتوں کے ادوار میں دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور اسٹریٹجک معاملات…

2 hours ago

Delhi Air Quality: دہلی کی ہوا پھر ہوئی زہریلی، اکتوبر کا پہلا ہفتہ 3 سال میں سب سے زیادہ آلودہ، اوسط اے کیو آئی 171 ریکارڈ

مانسون کی رخصتی کے ساتھ دارالحکومت کی فضائی آلودگی میں اضافہ، 2025 کے مقابلے اس…

11 hours ago

Rahul Gandhi First Reaction After Detained: حراست سے رہائی کے بعد راہل گاندھی کا پہلا ردعمل، کہا-پارلیمنٹ، سڑک اور جنتر منتر پر مضبوطی سے ڈٹے ہیں‘

الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…

11 hours ago