بین الاقوامی

Google Deepmind: فوج میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر گوگل میں گھمسان، سہولت یا سلامتی کے لیے خطرہ؟ جانیے پورا معاملہ

ایک وقت تھا جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کے درمیان گوگل کی شناخت اس کے مشہور نعرے ’’برائی مت کرو‘‘ سے ہوتی تھی۔ لیکن آج اسی گوگل کے دفاتر میں ایک بڑا اخلاقی سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی انسانوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے ہے یا جنگ کے میدان میں تباہی کا نیا ذریعہ بننے جا رہی ہے؟ گوگل کی جدید مصنوعی ذہانت کی اکائی گوگل ڈیپ مائنڈ میں ان دنوں اسی معاملے پر شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع، یعنی پینٹاگون، اور اسرائیلی فوج کے ساتھ کیے گئے فوجی اور کلاؤڈ معاہدوں کی مخالفت میں ڈیپ مائنڈ کے کئی سینئر محققین اور انجینئروں نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ کچھ دیگر ملازمین بھی کمپنی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ ملازمین کا الزام ہے کہ جس مصنوعی ذہانت کو انہوں نے انسانی فلاح و بہبود کے لیے تیار کیا تھا، اسے اب جنگی کارروائیوں میں لوگوں کو نشانہ بنانے کے عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

گوگل کے دفاعی معاہدے تنازع کی بنیادی وجہ

گوگل کے اندر پیدا ہونے والی ناراضگی کی بنیادی وجہ دو بڑے دفاعی معاہدے ہیں۔ ان میں پہلا اسرائیلی حکومت اور اس کی فوج کے ساتھ کئی ارب ڈالر کا کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کا معاہدہ ہے، جس پر غزہ جنگ کے بعد سے مسلسل تنقید کی جا رہی ہے۔ دوسرا معاہدہ اپریل میں امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ کیا گیا۔ اس کے تحت فوج کو خفیہ کارروائیوں اور ’’کسی بھی قانونی سرکاری مقصد‘‘ کے لیے گوگل کے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگرچہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی نگرانی کے بغیر کام کرنے والے خودمختار ہتھیاروں یا بڑے پیمانے پر اندرونِ ملک نگرانی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ فوجی فیصلوں پر گوگل کے پاس انہیں روکنے کا اختیار نہیں ہے۔ ایسے میں ان حفاظتی شرائط کی عملی افادیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

محققین کے استعفے اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا خدشہ

کمپنی چھوڑنے والے سائنس دانوں کی تشویش کا بنیادی تعلق مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال سے ہے۔ لندن میں واقع ڈیپ مائنڈ کی ایک انجینئر صوفیہ نے اپنے داخلی خط میں لکھا کہ انہیں اب اس بات پر اعتماد نہیں رہا کہ کمپنی کی ٹیکنالوجی معاشرے پر مثبت اثر ڈالے گی۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنی کے داخلی پلیٹ فارم پر مخالفت کے دوران ’’نسل کشی‘‘ جیسے الفاظ پر مشتمل پوسٹ ہٹا دی گئیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے ان پوسٹوں کو جارحانہ لہجہ قرار دے کر معاملے سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ سینئر محقق اینڈریاس کرش نے بھی ڈیپ مائنڈ چھوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2014 میں جب گوگل نے ڈیپ مائنڈ کو خریدا تھا، اس وقت مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال پر مکمل پابندی کی شرط رکھی گئی تھی۔ ان کے مطابق اب وہ حفاظتی اصول برقرار نہیں رہے۔

گوگل کا دفاع، بگ ٹیک کمپنیوں میں مقابلہ

گوگل انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان ٹام ہیوٹ کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے تمام معاہدوں کا جائزہ کمپنی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق اصولوں کی روشنی میں لیا جاتا ہے۔ گوگل کا مؤقف ہے کہ شفافیت اور سخت معیارات کے ساتھ فوج کو ٹیکنالوجی فراہم کرنا قومی سلامتی کی حمایت کرنے کا ایک ذمہ دارانہ طریقہ ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ پینٹاگون کے ساتھ معاہدوں کی دوڑ میں صرف گوگل ہی شامل نہیں ہے، بلکہ اوپن اے آئی اور ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی بھی امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ معاہدے کر چکی ہیں۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کو پینٹاگون نے بلیک لسٹ کر دیا، کیونکہ کمپنی نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈل سے ہتھیاروں اور نگرانی سے متعلق حفاظتی پابندیاں ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ تنازع ایک بار پھر اس اہم سوال کو سامنے لاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو قومی سلامتی اور دفاع کے لیے استعمال کرتے وقت انسانی نگرانی، اخلاقی اصولوں اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کس حد تک مؤثر ضمانتیں موجود ہونی چاہئیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India vs New Zealand: زخمی ایشان کشن دوسرے ٹی 20 سے باہر، کمار کشاگرا متبادل کے طور پر ٹیم میں شامل

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے جمعہ کو بتایا کہ نیوزی لینڈ…

10 minutes ago

World Polio Day 2026: عالمی یومِ پولیو 2026: بچوں کے صحت مند مستقبل کی جانب ایک قدم، جانیں ٹیکہ کاری کی اہمیت

نئی دہلی، 23 اکتوبر (آئی اے این ایس): پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے،…

1 hour ago

Delhi HC Dismisses Neha Bora’s Petition: دہلی ہائی کورٹ نے آئسا کی صدر نیہا بورا کی خارج کی عرضی، دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت

امن برقرار رکھنے کے لیے 10,000 روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن سے متعلق…

1 hour ago

Asian Para Games: جیولن تھرو میں ہندوستان کا دبدبہ، عالمی چیمپئن سمیت انتل نے گولڈ اور مہندر نے سلور میڈل جیتا

ناگویا: ہندوستان کے پیرا اولمپک اور عالمی چیمپئن سمیت انتل نے ایک اور بڑی کامیابی…

2 hours ago