بین الاقوامی

Iran-US Tensions: امریکہ پر ذرہ برابر بھی بھروسا نہیں، ٹرمپ کی دھمکیوں پر محمد باقر قالیباف کا سخت ردعمل،اگر معاہدہ توڑا گیا تو ایران جنگ کے لئے تیار

نئی دہلی :امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ مفاہمتی معاہدے کے باوجود ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اسے امریکہ پر کسی قسم کا اعتماد نہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ گزشتہ ماہ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے (ایم او یو) سے پیچھے ہٹا یا وعدہ خلافی کی تو ایران مکمل دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ نافذ جنگ بندی کو ختم شدہ قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات پر اہم بیان دیا ہے۔مقامی وقت کے مطابق جمعہ کو انڈونیشیا کی پیپلز کنسلٹیٹو اسمبلی کے اسپیکر احمد مزانی سے ملاقات کے بعد محمد باقر قالیباف نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ حالیہ امن مذاکرات کے دوران انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے دوٹوک انداز میں کہہ دیا تھا کہ ایران کو امریکہ پر “ذرہ برابر بھی بھروسا نہیں”۔قالیباف کے مطابق انہوں نے جے ڈی وینس سے کہا کہ صرف وہی ملک امریکہ سے مذاکرات کر سکتا ہے جو ہر وقت جنگ اور دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کی اور اگر امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے، جس پر واشنگٹن نے آمادگی ظاہر کی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے تہران کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان نافذ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے، لیکن جنگ بندی کو اب برقرار نہیں سمجھا جائے گا۔اسی دوران قطر کے ثالث بھی ایران پہنچ گئے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوشش کی جا سکے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ قطری وفد کا یہ دورہ امریکہ کے ساتھ رابطے اور مشاورت کے بعد طے پایا۔ اس سفارتی کوشش کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ میں کمی لانا اور مستقبل میں دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rahul Gandhi and Priyanka Detained: ووٹ چوری کے الزامات پر اپوزیشن کا احتجاج، راہل اور پرینکا گاندھی کو پولیس نے حراست میں لیا

ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا بڑا احتجاج، 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے…

1 hour ago

Kiren Rijiju Targets Rahul Gandhi: ’اب ڈرامہ بند کیجیے…‘، کرن رجیجو کا راہل گاندھی پر سخت حملہ، پی ایم مودی سے سیکھنے کا مشورہ

راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم…

2 hours ago

Adani Swirl Transit Hotel: نوی ممبئی ایئرپورٹ پر اڈانی گروپ نے شروع کیا Swirl ٹرانزٹ ہوٹل، اب ایئرپورٹ کے اندر ہی آرام اور کام کی سہولت

ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…

2 hours ago