مشہد: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ جمعرات کو مقدس شہر مشہد پہنچ گیا، جہاں انہیں روضۂ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق آخری رسومات میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں سوگوار مشہد پہنچے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے مطابق دانِش چوراہے سے روضۂ امام رضا تک غیر معمولی ہجوم کے باعث آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو فضائی راستے سے مزار تک منتقل کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے جنازے کے جلوس کے مناظر نشر کیے، جن میں سڑکوں کے دونوں جانب بڑی تعداد میں سوگوار سابق ایرانی رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔ میت لے جانے والے قافلے کے گرد بھی ہزاروں افراد موجود تھے۔
#WATCH | Funeral procession and burial for Iran’s late Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei in his hometown of Mashhad. He was killed on February 28 during Israeli and U.S. airstrikes on Iran.
(Video Source: IRIB POOL) pic.twitter.com/aNVQZGQdtG
— ANI (@ANI) July 9, 2026
جنازے میں ٹرمپ مخالف بینرز بھی نمایاں
سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے نشر کی گئی تصاویر میں بعض شرکا کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بینرز اٹھائے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ان بینرز کے ذریعے تہران نے سابق سپریم لیڈر کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت کا امکان نہیں
دوسری جانب سی این این نے ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے عوامی جنازہ تقریبات میں شرکت کا امکان نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے مشورے پر مجتبیٰ خامنہ ای عوامی تقریبات سے دور رہیں گے۔ سی این این کے مطابق ان کی نجی تدفینی تقریب میں بھی شرکت متوقع نہیں، اگرچہ اس تقریب میں خامنہ ای خاندان کے افراد کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ادھر آئی آر آئی بی نے بھی اطلاع دی ہے کہ تدفین کی تقریب سپریم لیڈر کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں ہوگی، تاہم اس میں شریک ہونے والی شخصیات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اے این آئی کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی اور تنازع شدت اختیار کر گیا تھا۔
جنگ بندی اور سفارتی کوششیں
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت مختلف امور پر 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز تھا۔ تاہم بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاملہ ان کے نزدیک اب ختم ہو چکا ہے اور وہ تہران کے ساتھ مزید سفارتی معاملات آگے بڑھانے کے خواہش مند نہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں، اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے مذاکرات کاروں سے اس بارے میں بات کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں میٹا کے مارک زکربرگ، گوگل کے سندر پچائی اور ایلون…
تلاشی کے دوران کشتی سے تقریباً 526 کلو گرام ممنوعہ منشیات برآمد ہوئی۔ اس میں…
ایک پوسٹر پر لکھا ہے، ’انڈیا الائنس کا دوغلا پن، جیتے تو ای سی آئی…
چار سیریز پر مشتمل گولڈ میڈل میچ میں بھارتی ٹیم نے آغاز ہی سے اپنی…
سکیورٹی ایجنسیوں کو بڈگام کے یوسمرگ علاقے کے گھنے جنگلات میں پاکستانی دہشت گردوں کی…
منیشا کیر، نیرو اور آشِما اہلاوت کی تین رکنی ٹیم نے خواتین کے ٹریپ ٹیم…