بین الاقوامی

Student Protests in France: فرانس میں طلبہ کا سڑکوں پر احتجاج، پولیس سے جھڑپوں کے بعد 400 سے زائد افراد حراست میں، مظاہروں میں متعدد طلبہ اور پولیس اہلکار زخمی

پیرس: فرانس میں اسکولوں کی خراب صورت حال، سہولتوں کی کمی اور اساتذہ کی قلت کے خلاف بڑی تعداد میں طلبہ سڑکوں پر اتر آئے۔ منگل کو کئی شہروں میں طلبہ کی تحریک پرتشدد ہوگئی، جس کے بعد ملک بھر میں 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں بڑی تعداد نابالغوں کی ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب فرانس کے کئی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ طلبہ نے سیکڑوں ہائی اسکولوں کے داخلی دروازے بند کردیے۔ وزارت تعلیم کے مطابق، منگل کو تقریباً 400 اسکولوں میں احتجاج یا تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پڑا، جبکہ لگ بھگ 40 اسکولوں میں مکمل طور پر ناکہ بندی کی گئی۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد کم کرنا، اساتذہ اور دیگر عملے کی کمی دور کرنا اور اسکولوں میں بہتر سہولتیں فراہم کرنا شامل ہیں۔ طلبہ نے طویل اور تھکا دینے والے ٹائم ٹیبل کے علاوہ حالیہ گرمی کے دوران کلاس رومز میں درجۂ حرارت حد سے زیادہ بڑھنے پر بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔

کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم

میڈیا ادارے ’لی موند‘ کی رپورٹ کے مطابق، شمالی شہر لیل میں مظاہرین نے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی اور پولیس پر بوتلیں، پتھر اور دیگر اشیا پھینکیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بورڈو، رین، نانت، مارسی اور دیگر شہروں سے بھی طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئیں۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق، پیر کو ہی 164 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ تقریباً 180 اسکول احتجاج سے متاثر ہوئے تھے۔ منگل کو تحریک مزید وسیع ہوگئی۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک درجنوں سکیورٹی اہلکار اور طلبہ زخمی ہوچکے ہیں۔

سرکاری ملازمین بھی بجٹ منصوبوں کے خلاف سراپا احتجاج

فرانس میں طلبہ کی تحریک کے ساتھ سرکاری شعبے کے ملازمین بھی حکومت کے مجوزہ بجٹ منصوبوں کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کررہے ہیں۔ حکومت کی مجوزہ بجٹ اسکیم میں سرکاری اخراجات میں کٹوتی شامل ہے۔ اساتذہ کی بڑی تعداد بھی ہڑتال میں شریک ہوئی ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے اسکولوں کے اطراف آتش زنی اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور پولیس کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب، طلبہ تنظیموں اور بعض اساتذہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے اور تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

کلاسوں میں 35 طلبہ، اساتذہ کی بھی کمی

ایک طلبہ تنظیم کے صدر ریاض رانی نے کہا کہ کئی کلاسوں میں 32 سے 35 طلبہ ہوتے ہیں اور اساتذہ سمیت دیگر ملازمین کی کمی بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، طلبہ کا مقصد بہتر اور زیادہ مساوی تعلیمی حالات کا مطالبہ کرنا ہے۔ ادھر، احتجاج سے نمٹنے کے طریقے کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی بیان بازی بھی تیز ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو اور بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلینشوں کے درمیان مظاہرین سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Asian Para Games: ایشین پیرا گیمز، وزیر اعظم نریندر مودی نے بے بی سہانا کے تاریخی تمغے کو سراہا، بھارتی پیرا ایتھلیٹس کی تعریف

ایشین پیرا گیمز 2026 میں بھارتی تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو وزیر اعظم نریندر مودی…

2 hours ago

Marco Rubio India visit: ’ریفائننگ سپر پاور‘ بنا بھارت، امریکہ بھی معترف، تجارتی معاہدے پر امریکی وزیر خارجہ کا بڑا اشارہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کو ’ریفائننگ سپر پاور‘ قرار دیتے ہوئے توانائی…

3 hours ago

بی جے پی یوا مورچہ کی نئی ٹیم کا اعلان، یوپی کے نکھل اور ہرش وردھن کو ملی بڑی ذمہ داری، یہاں دیکھیں پوری فہرست

نکھل منی تیواری قومی نائب صدر اور ہرش وردھن سنگھ قومی جنرل سکریٹری مقرر کئے…

4 hours ago

Regime Change: راہل گاندھی کے ویتنام سے لوٹتے ہی ہوگا ’رجیم چینج‘، سنجے راوت کے بیان سے سیاسی ہلچل

رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن…

4 hours ago

مظفر نگر میں ایم بی بی ایس کی طالبہ کی خودکشی، ہاسٹل کے کمرے میں پھندے سے لٹکی ملی لاش

مظفرنگر کے بیگ راج پورمیڈیکل کالج ہاسٹل میں ایم بی بی ایس فائنل ایئرکی طالبہ…

4 hours ago