بین الاقوامی

Afghanistan floods : افغانستان میں شدید بارش سے متعدد صوبے  سیلاب سے متاثر، 17 افراد جاں بحق، بڑے پیمانے مچی تباہی

افغانستان کے کئی صوبوں میں گزشتہ تین دنوں سے جاری شدید بارش اور برفباری کے باعث آنے والے اچانک سیلاب میں کم از کم 17 افراد کی جان چلی گئی، جب کہ 11 افراد زخمی ہو گئے۔ قومی قدرتی آفات انتظامی ادارے کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ اگرچہ اس شدید موسم سے طویل عرصے سے جاری خشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے، مگر اس نے بڑے پیمانے پر تباہی بھی مچا دی ہے۔قومی قدرتی آفات انتظامی ادارے کے ترجمان حفیظ محمد یوسف حماد کے مطابق پروان، قندھار، ہلمند، بادغیس، فاریاب، بدخشاں، ہرات اور فراہ صوبے اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 1,859 مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے، جب کہ لگ بھگ 209 کلومیٹر دیہی سڑکیں بہہ گئیں۔ اس کے علاوہ قریب 1,200 مویشی ہلاک ہوئے اور 13,941 ایکڑ زرعی زمین پانی میں ڈوب گئی یا مکمل طور پر برباد ہو گئی۔

حماد نے بتایا کہ شدید موسم نے وسطی، شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 1,800 خاندان اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں، جس سے پہلے ہی کمزور شہری اور دیہی آبادی کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ حکام نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں جائزہ ٹیمیں بھیج دی ہیں اور متاثرین کی ضروریات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے جاری ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر نے افغانستان کے لیے سال 2026 کی انسانی ضروریات اور ردعمل منصوبہ متعارف کرایا ہے، جس کے لیے 1.71 ارب امریکی ڈالر درکار ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 2026 میں تقریباً 2 کروڑ 19 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی، اگرچہ یہ تعداد 2025 کے مقابلے میں کچھ کم ہے۔ اس کے باوجود ایک کروڑ 74 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہے گا، جن میں 47 لاکھ افراد ہنگامی صورتحال میں ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ انسانی شراکت دار 2026 میں ضرورت مند آبادی کے تقریباً 80 فیصد، یعنی ایک کروڑ 75 لاکھ افراد کو امداد فراہم کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اس امداد میں خوراک، رہائش، صحت کی سہولیات، غذائیت، صاف پانی، صفائی اور نقد امداد شامل ہوگی۔ ادارے کے مطابق افغانستان میں انسانی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی خشک سالی، بار بار آنے والے سیلاب اور زلزلے، بیماریوں کا پھیلاؤ، خواتین اور لڑکیوں کو درپیش حفاظتی خطرات اور بڑی تعداد میں واپس آنے والے مہاجرین نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سال 2025 میں ایران اور پاکستان سے 26 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی واپسی نے مقامی آبادی، بنیادی خدمات اور روزگار کے وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

40 minutes ago

Drone Attacks on Protesters in PoK: پی او کے میں مظاہرین پر فائرنگ اور ڈرون حملوں کا الزام، 7 افراد ہلاک، 18 زخمی

پاکستانی سکیورٹی فورسز پر راولاکوٹ میں پُرامن مظاہرین اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا…

51 minutes ago

The revolution of 1857: ملک کی تحریک آزادی اور 1857 کو بغاوت کہنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی، یہ آزادی کی پہلی جنگ تھی: امت شاہ

نائب سنگھ سینی نے امت شاہ کی تنظیمی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: پیدائش سے  معذور بچوں کے لیے پنشن کی راہ ہموار، رقم میں بھی اضافہ کیا: وزیر اعظم مودی

گزشتہ ماہ حکومت نے وزیر اعظم دیویانگ جن پنشن اسکیم کے تحت معذور افراد کے…

1 hour ago