روم: وزیر اعظم نریندر مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت اور اٹلی اپنی گہری اسٹریٹجک شراکت داری، ثقافتی رشتوں اور مشترکہ جمہوری اقدار کی بنیاد پر عالمی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ اوپ ایڈ کے ذریعے واضح کیا کہ بھارت اور اٹلی کے تعلقات اب ایک فیصلہ کن اور تبدیلی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں باہمی تعاون صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تجارت، توانائی، دفاع اور ثقافت کے میدانوں تک پھیل چکا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کے ساتھ مشترکہ اوپ ایڈ تحریر کیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی سمت اور بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک قربت کی جھلک پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بھارت اور اٹلی کے درمیان ایک اسپیشل اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم ہو چکی ہے، جو اختراع، مشترکہ جمہوری اقدار اور مستقبل کے لیے یکساں وژن پر مبنی ہے۔
مشترکہ مضمون میں دونوں رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ حالیہ برسوں میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات میں غیر معمولی رفتار آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رشتہ اب محض دوستانہ سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر آزادی، جمہوریت اور مشترکہ مستقبل کے وژن پر مبنی ایک حقیقی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مودی اور میلونی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی نظام تیزی سے تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، بھارت اور اٹلی کے درمیان سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر مسلسل رابطے دونوں ممالک کو مزید قریب لا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ شراکت داری صرف اقتصادی مفادات تک محدود نہیں بلکہ سماجی تخلیقی صلاحیتوں، صنعتی ہم آہنگی اور ہزاروں برس پرانی تہذیبی سمجھ بوجھ کو بھی ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اکیسویں صدی میں خوشحالی اور سلامتی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ممالک اختراع، توانائی کی منتقلی اور اسٹریٹجک خود مختاری کو کس حد تک مضبوط بناتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت بھارت اور اٹلی نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور متنوع بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے زیادہ مؤثر فائدہ اٹھایا جا سکے۔
مشترکہ مضمون میں کہا گیا کہ بھارت اور اٹلی ایک طاقتور صنعتی اور تکنیکی ہم آہنگی قائم کرنا چاہتے ہیں، جس میں اٹلی کی ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور سپر کمپیوٹنگ مہارت کو بھارت کی تیز رفتار معاشی ترقی، انجینئرنگ ٹیلنٹ اور اختراع پر مبنی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں کے مطابق یہ صرف ایک سادہ انضمام نہیں ہوگا بلکہ مشترکہ ویلیو کری ایشن کا ایسا ماڈل ہوگا، جس میں دونوں ممالک کی صنعتی طاقتیں ایک دوسرے کو مزید مضبوط کریں گی۔ تجارت اور صنعتی تعاون کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں نے بڑے اہداف کا اعلان کیا۔ اوپ ایڈ میں کہا گیا کہ بھارت اور اٹلی “میڈ اِن اٹلی” اور “میک اِن انڈیا” کی طاقت کو یکجا کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو 2029 تک 20 ارب یورو تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس مقصد کے لیے آزاد تجارتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے نئے اہداف پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
مضمون میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ اٹلی کی کمپنیوں کی بھارت میں پیداوار کے شعبے میں بڑھتی دلچسپی اور اٹلی میں بھارتی صنعتوں کی مضبوط ہوتی موجودگی مثبت اشارہ ہے۔ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی ایک ہزار سے زیادہ کمپنیاں سرگرم ہیں، جو سپلائی چین کے انضمام کو مزید مستحکم بنا رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی اور اختراع کو بھی اس شراکت داری کا مرکزی ستون قرار دیا گیا۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ممالک انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کو فروغ دیں گے۔ بھارت کے “ایم اے این اے وی” نظریے اور اٹلی کے “الگور ایتھکس” ماڈل کو اس حوالے سے رہنما اصول قرار دیا گیا۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی انسانوں کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ ان کی جگہ لینے یا ان کے بنیادی حقوق کو کمزور کرنے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جمہوری عمل کو متاثر کرنے یا رائے عامہ کو کنٹرول کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔
دفاع، سیکورٹی، خلائی تحقیق اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو بھی تعلقات کا اہم ستون قرار دیا گیا۔ مضمون میں کہا گیا کہ بھارت کی سیٹلائٹ اور خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور اٹلی کی ایرو اسپیس انجینئرنگ مہارت مشترکہ منصوبوں کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح دفاعی تعاون، سمندری راستوں کی سلامتی، دہشت گردی، سائبر جرائم، منشیات اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ جیسے خطرات کے خلاف بھی دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔ توانائی کے میدان میں قابل تجدید ذرائع، گرین ہائیڈروجن، اسمارٹ گرڈ اور مضبوط انفراسٹرکچر کو مستقبل کی شراکت داری کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارت کا گرین ہائیڈروجن ایکسپورٹ ہب بننے کا منصوبہ اٹلی کی جدید ٹیکنالوجی اور یورپ کے توانائی گیٹ وے کے کردار کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ مشترکہ مضمون میں انڈو-میڈیٹرینین کوریڈور اور بھارت-مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ انڈو پیسیفک اور بحیرہ روم کے خطے اب الگ نہیں رہے بلکہ تیزی سے ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔ آخر میں وزیراعظم مودی اور وزیراعظم میلونی نے کہا کہ بھارت کے “وسودھیو کٹمبکم” اور “دھرم” جیسے فلسفے اور اٹلی کی انسان دوست روایات دونوں ممالک کو ایک مشترکہ عالمی وژن فراہم کرتی ہیں۔ ان کے مطابق گہری شراکت داری، ثقافتی قربت اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ہی عالمی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے۔
بھارت ایکپریس اردو۔
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…