بین الاقوامی

Gaza Crisis: ’’اگر ہم ہر رات سو غزہ کے باشندوں کو ماریں، تو بھی دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑے گا‘‘، اسرائیلی قانون ساز اسمبلی کے رکن کا دل دہلا دینے والا بیان

ایک اسرائیلی کنیست (اسرائیلی قانون ساز اسمبلی کے) ممبر، زپی اسکاٹ نے حال ہی میں براہ راست ٹیلی ویژن پر کھلے عام کہا کہ کہ راتوں رات 100 سے زیادہ غزہ کے باشندے مارے گئے لیکن ’’دنیا کو کوئی پرواہ نہیں‘‘ ہے۔ اسرائیلی میڈیا چینل 12 سے بات کرتے ہوئے زپی اسکاٹ نے کہا ’’گزشتہ رات ہم نے تقریباً ایک سو غزہ کے باشندوں کو مار ڈالا… اب کسی کو اس کی پرواہ نہیں ہے… ہر کسی کو اس کی عادت ہو گئی ہے کہ آپ ہر رات 100 غزہ کے باشندوں کو مار سکتے ہیں… اور دنیا میں کسی کو کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

غزہ میں پیدا ہو گئی ہے قحط جیسی صورت حال

اسرائیلی کنیست ممبر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے، جس میں صرف پانچ دنوں میں کم از کم 378 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب سے ’’نئے آپریشن‘‘ کے اعلان کے بعد کم از کم دس افراد مارے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی متعدد رپورٹس کے مطابق ان فلسطینوں کو اس وقت مارا گیا جب وہ انسانی امداد جمع کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر آٹے کے تھیلوں کے پاس خون میں لت پت پڑی لاشوں کی بدن میں سنسنی پیدا کر دینے والی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے کسی بھی طرح کی انسانی امداد کو خطے میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، جس کی وجہ سے غزہ میں قحط کی سی صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور اقوام متحدہ سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں ے نشان زد کیا ہے کہ اس ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کی آبادی بھوک کی شدت سے مر جائے گی اور یہ ناکہ بندی ایک انسان ساختہ قحط پیدا کر رہی ہے، جو غزہ میں لاکھوں جانوں کے نقصان سب بنے گی، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

کئی ممالک نے اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دیا زور

دریں اثنا ہفتے کے روز کئی ممالک نے غزہ پر اسرائیل کی 19 ماہ سے جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے پر زور دیا ہے اور اسے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ہفتے کے روز اسرائیل پر ’’غزہ میں قتل عام روکنے کے لیے‘‘ بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ’’انسانیت کے اصولوں کی خلاف ورزی‘‘ کو نشان زد کیا۔

وہیں اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ ’’اب مزید فلسطینی عوام کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے‘‘۔ انھوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں اپنے مہلک فوجی حملے فوراً بند کرے۔ واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی میں اب تک 52000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیل نے امدادی کارکنوں، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور صحافیوں کو بھی ٹارگٹ حملوں میں ہلاک کیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں 200 سے زیادہ صحافی مارے جا چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

8 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

8 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

9 hours ago