امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے حصول کی خواہش ان کی انتظامیہ اور خاندان کے لیے ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کو ختم کرنے کی ان کی کوششوں کے تناظر میں اس خواہش کی تکمیل کے کچھ حد تک امکانات بھی ہیں۔ صدرٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ اس اعزاز کے مستحق ہیں، لیکن انہیں شک ہے کہ نوبل کمیٹی انہیں یہ ایوارڈ دے گی یانہیں۔ ان کے قریبی مشیر اور خاندانی افراد، جن میں ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں، نے بھی ان کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ان کے کردار کوواضح کیا ہے۔ تاہم، ان کی تجویز کردہ پالیسیاں، جیسے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کا منصوبہ، تنازعات کا باعث بن رہی ہیں اور ان کے نوبل انعام کے امکانات کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
ٹرمپ کی نوبل امن انعام کی خواہش کو ان کے خاندان اور حامیوں نے سراہا ہے، لیکن اسے تنقید کا بھی سامنا ہے۔ ان کے داماد جیرڈ کشنر، جنہوں نے پہلے ابراہم معاہدہ کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا، نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی غزہ سے متعلق پالیسیاں، جن میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو مصر یا اردن منتقل کرنے کا منصوبہ شامل ہے، امن کے بجائے مزید تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں۔ اسرائیلی سائنسدانوں، جن میں تین نوبل انعام یافتہ شامل ہیں، نے ٹرمپ کو خط لکھ کر ان کی یرغمالوں کی رہائی کے لیے کوششوں کی حمایت کی اور کہا کہ اگر وہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کروا لیتے ہیں تو وہ انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کریں گے۔
حالیہ پیش رفت میں، ٹرمپ کی انتظامیہ نے غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور ابراہم معاہدہ کو سعودی عرب تک وسعت دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تاہم، سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے پہلے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک ٹھوس راستہ چاہتا ہے، جو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی پالیسیوں سے متصادم ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں، جیسے کہ خزانہ سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ اور نامزد اقوام متحدہ کی سفیر ایلیس اسٹیفانک، نے ان کی ممکنہ کامیابیوں کو نوبل انعام کے لائق قرار دیا ہے۔ لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ حالیہ تناؤ اور ٹرمپ کی روس کے ساتھ مبینہ نرمی نے بھی نوبل کمیٹی کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔
ٹرمپ کے خاندان کے افراد، خاص طور پر ایوانکا اور جیرڈ، ان کی نوبل امن انعام کی مہم کو غیر سرکاری طور پر فروغ دے رہے ہیں، لیکن عالمی برادری میں ان کی پالیسیوں پر منقسم رائے ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ان کے غیر روایتی انداز کو امن کے لیے ایک نئی راہ سمجھتے ہیں، دوسرے ان کے اقدامات کو جنگ کے تسلسل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے جوڑتے ہیں۔ نوبل کمیٹی، جو روایتی طور پر نامزدگیوں پر تبصرہ نہیں کرتی، کو اس فیصلے میں ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کے دیگر متنازع اقدامات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ فی الحال، ٹرمپ کا نوبل انعام کا خواب ان کے سیاسی حامیوں اور خاندان کے لیے ایک جذباتی موضوع ہے، لیکن اس کا انحصار ان کی مستقبل کی سفارتی کامیابیوں پر ہے۔یا درہے کہ اس سے قبل براک اوبامہ کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…