امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھرایران کو خبردارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدے تک پہنچنے کے لیے صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگراس وقت کے اندرمعاہدہ نہ ہوا تو صورتحال بہت سنگین ہوسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل انہوں نے ایران کو10 دن کا وقت دیا تھا کہ وہ یا تومعاہدے تک پہنچ جائے یا آبنائے ہرمز کوکھول دے۔
ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمزکے حوالے سے مختلف بیانات دے چکے ہیں۔ اسی ہفتہ ایک تقریرکے دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کومکمل طورپرکمزورکردیا ہے اورباقی جلد مکمل ہو جائیں گے۔ جمعہ کے روزانہوں نے سوشل میڈیا پرلکھا کہ مزید وقت دیا جائے توامریکہ آبنائے ہرمزکوآسانی سے کھول سکتا ہے، وہاں سے تیل نکال سکتا ہے اور بھاری منافع کما سکتا ہے۔
ٹرمپ کے دعووں پراٹھنے لگے سوال
ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طورپراعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کومکمل طورپرکمزورکردیا ہے۔ یہ دعویٰ کیا کہ ایران کا فوجی اوررڈارسسٹم تقریباً تباہ ہوچکا ہے اورامریکہ کہیں زیادہ طاقتورہے۔ تاہم جنگ کی اصل حالت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جمعہ کے روزایران نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مارگرایا تھا۔ ایک پائلٹ کوبچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ ایران نے ایک اور امریکی طیارے کوبھی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے، جو واضح طورپرایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
اتحادیوں کا ساتھ دینے سے انکار
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے کچھ اقدامات سے بھی حیران نظرآئے، جیسے کہ خلیجی ممالک پرحملے اورآبنائے ہرمزکی قریب قریب بندش۔ اس سے عالمی سطح پرتیل کی سپلائی متاثرہوئی۔ ٹرمپ نے اس راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے دوسرے ممالک سے مدد مانگی، لیکن بہت سے اتحادی اس پرراضی نہیں تھے۔ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون نے کہا کہ امریکہ نے بغیرپوچھے جنگ شروع کی، اس لئے اسے دوسروں سے مدد کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمرنے بھی جنگ میں شامل ہونے سے انکارکردیا۔ دونوں ممالک نے کہا کہ وہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہی اس معاملے پرکام کریں گے۔ نیٹوممالک نے بھی امریکہ کی مدد کرنے سے انکارکردیا۔
امریکہ میں ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت
ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں پرامریکہ کے اندربھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ ان کے اپنے کچھ لیڈران نے کہا ہے کہ دنیا کومضبوط اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کے سابق مشیرجان بولٹن نے کہا کہ اتحادیوں سے مشاورت کے بغیرجنگ شروع کرنا غلطی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازی کے حوالے سے ٹرمپ کا خاموش رویہ اب مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ جنگ جیسی صورتحال میں کوئی بھی فرد ہرچیزکوکنٹرول نہیں کرسکتا۔
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…