بین الاقوامی

Middle East Crisis: سعودی ولی عہد کی ایک فون کال نے بدل دیا ٹرمپ کا فیصلہ! ایران پر حملے کے معاملے میں امریکہ کا بڑا یو ٹرن

مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری امریکہ۔ایران کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے کے کئی اتحادی ممالک نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے فی الحال ایران پر نئی فوجی کارروائی کا منصوبہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پیش رفت کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس سے کچھ ہی پہلے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس گفتگو میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ خطرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ٹرمپ نے کیا کہا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مغربی ایشیا کے اتحادی ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ابتدائی اتفاقِ رائے قائم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے کا سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے مکمل طور پر کھولنا اور ایران سے متعلق جوہری خطرے کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان سفارتی کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے فی الحال فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ مستقل فیصلہ نہیں ہے، بلکہ آئندہ صورتِ حال اس بات پر منحصر ہوگی کہ مذاکرات کتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور معاہدہ کس سمت جاتا ہے۔

ایران کی جانب سے خاموشی

امریکی دعوؤں کے باوجود ایران کی حکومت نے اس پیش رفت پر ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ تہران اس مجوزہ معاہدے کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے یا مذاکرات کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

اسرائیل بھی مذاکراتی عمل میں شامل

ٹرمپ کے مطابق اسرائیل بھی امریکہ کے ساتھ مل کر اس ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ سفارتی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو گزشتہ پانچ ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب یہ ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس بیان سے صرف ایک روز قبل تک ٹرمپ کا مؤقف کافی سخت تھا۔ انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ اسی وجہ سے ان کے تازہ بیان کو ایک بڑے یو ٹرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کیوں فکر مند ہے؟

سعودی عرب کی تشویش صرف امریکہ اور ایران کے درمیان تصادم تک محدود نہیں ہے۔ ریاض کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ ایران کے تیل یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑا حملہ کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔اطلاعات کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے فون پر ہونے والی گفتگو میں ٹرمپ سے ممکنہ فوجی کارروائی کی حکمت عملی کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔

اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری

اسی سفارتی ماحول میں سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان حال ہی میں واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس سے الگ الگ ملاقاتیں کرکے خطے کی سلامتی پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بھی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

13 minutes ago

Chief Justice Surya Kant: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

45 minutes ago