امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) سے تقریباً 100 اہلکاروں کو برطرف کر دیا ہے، جو کہ وائٹ ہاؤس کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے امور میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر برطرفی کا مقصد این ایس سی کے کردار کو کم کر کے اسے صدر کے ایجنڈے کے مطابق ایک چھوٹی اور زیادہ عملدرآمد پر مرکوز ایجنسی میں تبدیل کرنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، برطرف کیے گئے اہلکاروں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو یوکرین اور کشمیر جیسے اہم عالمی مسائل پر کام کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ این ایس سی کو ایک نمایاں پالیسی ساز ادارے سے ہٹ کر صدر کے وژن کے مطابق عملدرآمد پر توجہ دینے والی تنظیم بنایا جائے۔
اس تبدیلی کا آغاز سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر تعیناتی کے چند ہفتوں بعد ہوا، جنہوں نے مائیک والٹز کی جگہ لی۔ اس سے قبل بھی کئی سینئر این ایس سی اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے، جن کی فہرست مبینہ طور پر دائیں بازو کی کارکن لورا لومر نے “غیر وفادار” عملے کے طور پر ٹرمپ کو فراہم کی تھی۔ ان برطرفیوں کو ٹرمپ کے اس وسیع تر اقدام کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں وہ وفاقی حکومت سے ان اہلکاروں کو ہٹا رہے ہیں جنہیں وہ اپنے ایجنڈے کے خلاف سمجھتے ہیں، جیسا کہ لائبریرین آف کانگریس کارلا ہیڈن کی برطرفی کے معاملے میں بھی دیکھا گیا۔
ایکس پر پوسٹس کے مطابق، برطرف کیے گئے اہلکاروں کو اپنے دفاتر خالی کرنے کے لیے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا، جس سے اس اقدام کی تیزی اور شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے این ایس سی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور یہ ٹرمپ کی ترجیحات پر عملدرآمد کے لیے صدارتی اختیارات کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، اس اقدام پر تنقید بھی ہو رہی ہے کہ یہ قومی سلامتی کے ادارے کو کمزور کر سکتا ہے اور تجربہ کار ماہرین کے نقصان سے اہم عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔
یہ پیش رفت ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران دیگر متنازع فیصلوں کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے، جیسے کہ ان کی نئی دفاعی اور معاشی پالیسیاں۔ مثال کے طور پر، انہوں نے “گولڈن ڈوم” نامی سیٹلائٹ پر مبنی میزائل دفاع نظام کا اعلان کیا ہے، جو عالمی سطح پر چین اور روس کے لیے ایک پیغام ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان کی انتظامیہ نے عالمی تجارت اور امیگریشن پالیسیوں میں بھی سخت اقدامات متعارف کروائے ہیں، جو ان کی “امریکہ سب سے پہلے” کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…
کنّوا کے قریب تین بلڈوزر کھڑے کرکے اکھلیش یادو کے رتھ پر کی گئی پھولوں…
نیو ٹاؤن میں اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سنسکرت کا…
حادثے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔…