تہران: ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی نے خطے کو سنگین انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں تازہ حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملک کے بیشتر حصوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ مسلسل فضائی اور میزائل حملوں کے باعث شہری زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مختلف ایرانی شہروں پر کیے گئے حملوں میں کم از کم 555 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں تاہم مسلسل حملوں کے باعث ریسکیو کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی سائبر نگرانی تنظیم واچ ڈاگ نیٹ بلاکس نے بتایا ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ سروسز بڑے پیمانے پر بند ہیں اور یہ بندش 48 گھنٹوں سے زیادہ سے جاری ہے۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن حکومتی کنٹرول کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی کشیدگی کے دوران دیکھا گیا تھا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے کچھ حصوں میں محدود آن لائن رابطہ بحال ہے تاہم مکمل مواصلاتی نظام بدستور متاثر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مواصلاتی بندش کے باعث زمینی صورتحال کی درست معلومات دنیا تک پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ادھر چین کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جاری فوجی کارروائیوں کے دوران ایران میں ایک چینی شہری ہلاک ہو گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیان میں کہا کہ تہران میں حالیہ عسکری جھڑپوں کے دوران ایک چینی شہری جان کی بازی ہار گیا، جس پر چین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2 مارچ تک تقریباً تین ہزار چینی شہریوں کو ایران سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک بار پھر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مغربی شہر سننداج پر میزائل حملوں کی شدید بوچھاڑ کی گئی جس میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق حملوں کے بعد متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور ہنگامی سروسز کے اہلکار ملبے میں زندہ افراد کی تلاش کرتے رہے۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی آئی آر این اے نے بتایا کہ سننداج میں ہونے والے حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران تہران کے شمالی علاقے میں واقع ایک اسپتال کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر دوسرے طبی مراکز منتقل کرنا پڑا۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے جاری ویڈیو میں گاندھی اسپتال کی تباہ شدہ عمارت، سڑکوں پر بکھرا ملبہ اور ٹوٹے شیشے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے اور خطے میں عدم استحکام طویل عرصے تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…