چین نے اپنی سیاحت اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے 74 ممالک کے شہریوں کے لیے 30 دن تک ویزا فری انٹری کی پالیسی متعارف کرائی ہے، جو کہ پہلے کی پابندیوں کے مقابلے میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس پالیسی کا آغاز کووڈ-19 کے سخت سفری پابندیوں کے خاتمے کے بعد 2023 میں کیا گیا تھا، اور اسے مرحلہ وار وسعت دی گئی ہے۔ دسمبر 2023 میں فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، اسپین اور ملائیشیا کے شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کا اعلان کیا گیا تھا، اور اب جون 2025 سے لاطینی امریکہ کے ممالک جیسے برازیل، ارجنٹائن، چلی، پیرو اور یوراگوئے سمیت دیگر ممالک کو بھی اس سہولت میں شامل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیاحت کے شعبے کو بحال کرنا، معاشی ترقی کو تیز کرنا اور چین کی عالمی سافٹ پاور کو بڑھانا ہے۔ 2024 میں 20 ملین سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے اس پالیسی سے فائدہ اٹھایا، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
سیاحت میں اضافہ اور عالمی تعلقات کی مضبوطی
چین کی اس نئی ویزا پالیسی نے بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر یورپ، ایشیا، اور لاطینی امریکہ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں۔ شنگھائی نے 2025 کے پہلے نصف سال میں 26 لاکھ غیر ملکی سیاحوں کا خیرمقدم کیا، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 44.8 فیصد زیادہ ہے، جبکہ بیجنگ میں ویزا فری انٹری کے تحت آنے والے سیاحوں کی تعداد دگنی ہو کر 8.4 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، چین نے 55 ممالک کے لیے 240 گھنٹے ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی بھی متعارف کرائی ہے، جو سیاحوں کو چین کے بڑے شہروں جیسے بیجنگ، شنگھائی اور چنگڈو میں 10 دن تک قیام کی اجازت دیتی ہے۔ اس پالیسی سے چین اپنی ثقافتی ورثے اور جدید ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر جب جغرافیائی سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے۔
پالیسی کے تقاضے اور مستقبل کے امکانات
ویزا فری انٹری کا اطلاق صرف سیاحت، کاروباری دوروں، خاندانی ملاقاتوں یا ثقافتی تبادلے کے لیے ہے اور اس میں کام، تعلیم یا صحافتی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔ سیاحوں کو اپنے سفر کے دوران درست پاسپورٹ رکھنا ہوگا اور بعض صورتوں میں رہائش یا واپسی کے ٹکٹ کا ثبوت دکھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ پالیسی زیادہ تر ممالک کے لیے ایک سال کے آزمائشی عرصے کے طور پر نافذ کی گئی ہے، اور چینی حکام مستقبل میں مزید ممالک کو اس میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم، کچھ اہم افریقی ممالک اور بھارت کو اس پروگرام سے ابھی تک باہر رکھا گیا ہے، جس کی وجہ جغرافیائی سیاسی عوامل ہو سکتے ہیں۔ اس پالیسی سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا ہے بلکہ چین کے جدید شہروں اور تاریخی مقامات جیسے بیجنگ کا فوربیڈن سٹی اور شنگھائی کا جدید اسکائی لائن سیاحوں کے لیے پرکشش بن رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…
برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو…
ایسے میں 19 سالہ کارتک نے شکایت کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے کا فیصلہ…
راگھو چڈھا نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن…
آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…