بین الاقوامی

Bilawal admits that Islamabad does ‘dirty work’!: ’’دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا رہا ہے پاکستان… وزیر دفاع کے بعد بلاول نے بھی مانا اسلام آباد کرتا ہے گندا کام!

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک کا ماضی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے کا رہا ہے۔ بھٹو کا یہ ریمارکس ملک کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد کئی دہائیوں تک دہشت گردی کی حمایت کا ’گندا کام‘ کرتا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھٹو نے یکم مئی کو اسکائی نیوز سے بات چیت کے دوران بتایا، ’’جہاں تک وزیر دفاع (آصف) نے کہا، میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی راز ہے کہ پاکستان کا ایک ماضی ہے۔‘‘

بھٹو نے پہلی افغان جنگ کے دوران مجاہدین کی مالی مدد کرنے اور حمایت کرنے میں پاکستان کے فعال کردار کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے مغربی طاقتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون سے ایسا کیا۔ پاکستان انتہا پسندی کی ایک کے بعد ایک لہر سے گزرا… ہم نے نقصان اٹھایا۔‘‘

حالانکہ، بھٹو نے زور دے کر کہا کہ حالیہ برسوں میں صورت حال بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا، یہ درست ہے کہ یہ (دہشت گردی) ہماری تاریخ کا بدقسمتی سے حصہ ہے، لیکن ہم نے اس سے سبق بھی سیکھا ہے۔ انہوں نے ’صورتحال میں تبدیلی‘ کا سہرا اندرونی اصلاحات اور فوجی کارروائیوں کو دیا، خاص طور پر ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد، جس سے انتہا پسند عناصر کے خلاف ریاست کی پالیسی پلٹ گئی۔

بھٹو نے کہا، ’’ہم ہر دوسرے دن دہشت گردانہ حملے دیکھے… پاکستان نے ان گروہوں کے خلاف سنجیدہ اور کامیاب کارروائی کی ہے۔‘‘ بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین ہیں، جو پاکستان کی حکمران جماعت کا حصہ ہے۔

پچھلے ہفتے ہی، اسکائی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، آصف سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کی ’سپورٹ، ٹریننگ اور فنڈنگ‘ کی طویل تاریخ رہی ہے۔ انہوں نے صاف صاف اعتراف کیا کہ ایسا ہی ہے۔ لیکن انہوں اس کا الزام مغرب پر لگانے کی کوشش کی۔

آصف نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ہم تقریباً تین دہائیوں سے امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی ممالک کے لیے یہ ’گندا کام‘ کر رہے ہیں… یہ ایک غلطی تھی اور ہمیں اس کی قیمت چکانی پڑی۔ اسی لیے آپ مجھے یہ کہہ رہی ہیں، اگر ہم سوویت یونین کے خلاف جنگ اور 9/11 کے بعد کی جنگوں میں شامل نہ ہوتے تو پاکستان کا ٹریک ریکارڈ بے داغ ہوتا۔‘‘

چند دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی اعلیٰ پاکستانی لیڈر نے دہشت گردی کی حمایت کا اعتراف کیا ہے۔ یہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور ہندوستان کے جارحانہ موقف سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں لیڈران کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ ہندوستان کوئی بڑی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

22 اپریل کو، دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام کی وادی بیسرن میں لوگوں (زیادہ تر سیاحوں) پر فائرنگ کی۔ اس حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ کالعدم دہشت گرد گروپ ’لشکر طیبہ‘ سے وابستہ ’ٹی آر ایف‘ نے اس حملے کی ذمہ داری لی۔

پہلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ نئی دہلی نے اسلام آباد کے خلاف کئی سخت سفارتی اور تزویراتی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی کی فوری معطلی، اٹاری انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کی بندش، پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سروسز کی فوری معطلی سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں۔

ہندوستان کے ان فیصلوں کے بعد پاکستان نے شملہ معاہدے کو معطل کرنے اور ہندوستانی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Umar Khalid-Sharjeel Imam: عمر خالد اور شرجیل امام کو بڑا جھٹکا، دہلی ہائی کورٹ نے تیسری ضمانت درخواست بھی کی مسترد

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…

6 hours ago

Election Commission Dispute: ’کابینہ سکریٹری کو خط لکھنا پروٹوکول کے خلاف‘، الیکشن کمیشن کے سابق افسر محمد امین کا بڑا دعویٰ

الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…

6 hours ago

PM Narendra Modi: گرین انرجی اسکیم، 2035 تک 900 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کا ہدف حاصل کرنے کی جانب اہم پیش رفت، پی ایم مودی

گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…

6 hours ago

بشیربدر کو اردواکادمی، دہلی نے پیش کیا خراج عقیدت، توسیعی خطبہ و شعری نشست کا انعقاد، سرکردہ شخصیات کی شرکت

پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…

7 hours ago