بین الاقوامی

US Treasury Secretary Scott Bessent: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا یورپی یونین -بھارت تجارتی معاہدے پر شدید اعتراض، روسی تیل سے جنگ کی فنڈنگ کا لگایا الزام

نئی دہلی: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یورپی یونین اور بھارت کے درمیان طے پانے والے مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یورپی ممالک روس۔یوکرین جنگ کے دوران بالواسطہ طور پر روسی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ روسی خام تیل سے بھارت میں تیار ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات خرید رہا ہے، جو دراصل جنگ کی مالی اعانت کے مترادف ہے۔ اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارت پر عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کا دفاع کیا اور کہا کہ یورپ کا رویہ اس کے اپنے سیکورٹی مؤقف سے متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے روسی تیل خریدنے پر بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا، مگر اسی دوران یورپی ممالک نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر لیا، جو دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔

بیان کے مطابق روسی خام تیل بھارت جاتا ہے، جہاں اسے ریفائن کر کے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، بعد ازاں یہی مصنوعات یورپی منڈیوں میں فروخت ہوتی ہیں۔ بیسنٹ نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے یورپی ممالک دراصل اسی جنگ کو فنڈ کر رہے ہیں، جس کے اثرات انہیں خود بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں۔امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ امریکہ نے روسی توانائی سے خود کو الگ کرنے کے لیے سخت اقتصادی فیصلے کیے ہیں اور پابندیوں کے باعث زیادہ سیاسی و معاشی بوجھ بھی برداشت کیا ہے، جب کہ یورپ عالمی تیل سپلائی چین میں موجود خلا سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نہ صرف پابندیاں نافذ کر رہا ہے، بلکہ تنازع کے سفارتی حل کے لیے بھی سرگرم ہے۔

بیسنٹ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ٹرمپ کی قیادت میں بالآخر روس-یوکرین جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ ان بیانات سے ایسے وقت میں یورپ اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جب دونوں فریق تجارتی اور توانائی پالیسیوں پر اختلافات کا شکار ہیں۔واضح رہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات 2007 میں شروع ہوئے تھے، جسے اب عالمی تجارتی منظرنامے میں بڑی اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف نافذ کیے ہیں، جن میں روسی تیل کی درآمد سے جڑا 25 فیصد خصوصی محصول بھی شامل ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ بیانات میں بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بھارتی ریفائنریوں کی جانب سے روسی تیل کی خریداری میں مزید کمی آئی تو ٹیرف میں نرمی کی راہ نکل سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago