بین الاقوامی

Sheikh Hasina verdict today: شیخ حسینہ کے خلاف فیصلہ آج، ڈھاکا میں کرفیو جیسا ماحول، سکیورٹی ہائی الرٹ، کشیدہ حالات میں ’دیکھتے ہی گولی مارنے‘ کا حکم نافذ

نئی دہلی/ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف مقدمے میں انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل بنگلہ دیش (ICTBD) آج فیصلہ سنائے گا۔ ملک میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور کسی بھی ہنگامہ یا تشدد کے خدشے کے پیش نظر ’شوٹ ایٹ سائیٹ‘ یعنی ’دیکھتے ہی گولی مارنے‘ کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اتوار کی شام ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (DMP) کے کمشنر شیخ محمد سجاد علی نے خبردار کیا کہ جو بھی شخص آگ زنی، کاک ٹیل دھماکے یا پولیس و شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اس پر فوراً فائرنگ کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات نافذ کر دیے گئے۔

ملک بھر میں ہڑتال، بم دھماکوں اور تشدد میں اضافہ

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کی جانب سے 16 اور 17 نومبر کو کی گئی دو روزہ ہڑتال کے دوران ڈھاکہ سمیت کئی علاقوں میں کاک ٹیل دھماکوں اور آگ زنی کے واقعات بڑھے ہیں۔ شیخ حسینہ کی سابق حکومت پر درج ذیل سنگین الزامات عائد ہیں:

قتل اور قتل کی سازش

شہریوں کو بچانے میں ناکامی

انسانیت کے خلاف جرائم

طلبہ کی گرفتاری اور تشدد

غیر عدالتی قتل (Extrajudicial Killing)

اندھا دھند فائرنگ کے احکامات

سیکورٹی فورسز کے غلط استعمال کا حکم

استغاثہ نے عدالت سے سزائے موت کی درخواست کی ہے۔ فیصلہ شیخ حسینہ واجد کی غیر موجودگی میں سنایا جائے گا، کیونکہ وہ ملک میں موجود نہیں ہیں۔

عدالت کے باہر سخت نگرانی، داخلی راستوں پر مکمل چیکنگ

جس دن عدالت نے فیصلہ سنانے کی تاریخ دی تھی، بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور تشدد دیکھنے میں آیا۔ آج صبح سے ہی ڈھاکا میں سخت ترین سکیورٹی نافذ ہے۔ پولیس اور رپیڈ ایکشن بٹالین (RAB) کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ گیٹ سے ڈوئل چھتّر تک تمام گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی ہے۔ ٹریبونل اور ہائی کورٹ میں داخل ہونے والے ہر شخص کی جامہ تلاشی ہورہی ہے۔ استغاثہ کے رکن غازی ایم ایچ تمیم نے بتایا کہ عدالت کی کارروائی صبح 11 بجے شروع ہوجائے گی۔

حسینہ کی حکومت کیسے گری؟

جولائی 2024 میں بنگلہ دیش میں باقاعدہ ہنگامے اور طلبہ تحریک کے نام پر بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا۔ یہ تحریک بعد میں تشدد میں بدل گئی اور اسی ماحول میں شیخ حسینہ کی حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹا دیا گیا۔ جولائی 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد حسینہ کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے گئے۔ اگست 2024 میں وہ بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت آ گئیں۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی عبوری حکومت قائم کی گئی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں تقر یباً 1,400 افراد مارے گئے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

24 minutes ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

32 minutes ago

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

2 hours ago