بین الاقوامی

Punishment for Misdeeds: بھارت سے وطن واپس آتے ہی حسینہ کو بھیج دیا جائے گا جیل، نہیں ملے گا انہیں سرینڈر کرنے کا موقع، بنگلہ دیشی وزیر کا بیان

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے وطن واپسی کے اعلان کے بعد ملک کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے قانونی امور کے مشیر ایم اسد الزماں نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ اگر شیخ حسینہ بھارت سے واپس آتی ہیں تو انہیں عدالت میں خودسپردگی (سرینڈر) کا موقع دیے بغیر فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر قانونی راستوں سے کوئی ریلیف حاصل کریں، اسی لیے انتظامیہ اس معاملے میں سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

شیخ حسینہ نے دسمبر تک وطن واپسی کا عزم ظاہر کیا

ایم اسد الزماں کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 78 سالہ شیخ حسینہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جان کا خطرہ ہونے کے باوجود وہ رواں سال دسمبر تک بنگلہ دیش واپس جانے کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق، ’’ممکن ہے مجھے قتل کر دیا جائے یا گرفتار کر لیا جائے، لیکن میں پھر بھی واپس جانا چاہتی ہوں کیونکہ میرے لوگ مجھے بلا رہے ہیں۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ عبوری حکومت کی جانب سے پاسپورٹ منسوخ کیے جانے کے بعد وہ کس طرح وطن واپس آئیں گی، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ان کا مسئلہ نہیں بلکہ حکومت کا معاملہ ہے۔

قانونی مشیر کا دوٹوک مؤقف

قانونی مشیر ایم اسد الزماں نے کہا، ’’یہ ان کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔ جب بھی وہ ہمارے دائرۂ اختیار میں آئیں گی، میں قانون کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کروں گا۔‘‘

شیخ حسینہ کو ملک کیوں چھوڑنا پڑا؟

اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے پرتشدد احتجاج اور حکومت مخالف مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑ کر ملک سے روانہ ہونا پڑا تھا، جس کے بعد سے وہ بھارت میں مقیم ہیں۔ ان کے ملک چھوڑنے کے بعد بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی۔

اوامی لیگ پر پابندی اور عدالتی کارروائی

اقتدار کی تبدیلی کے بعد ایک خصوصی عدالت نے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی۔ بعد ازاں نومبر 2025 میں انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے 2024 کے احتجاج کے دوران مبینہ تشدد کے سلسلے میں شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا قصوروار قرار دیتے ہوئے، ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی۔

عدالتی کارروائی پر بین الاقوامی سوالات

تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس عدالتی عمل اور اس کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ اس کے باوجود انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی حکومت شیخ حسینہ کی گرفتاری اور حوالگی کے مطالبے پر قائم ہے۔

تاریخی پس منظر

شیخ حسینہ، بنگلہ دیش کے بانی بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی ہیں، جنہوں نے 1971 میں پاکستان کے خلاف آزادی کی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد ملک میں ان کے خاندان کی علامت سمجھی جانے والی متعدد یادگاروں اور مجسموں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے ان کے حامی تاریخی ورثے کو مٹانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Bhagavad Gita Shlok: وزیر اعظم نریندر مودی نے شیئر کیا بھگود گیتا کا شلوک، بتایا ’کرم یوگ‘ کا بنیادی منتر

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شری مد…

3 minutes ago

INDIA Alliance Meeting: اپوزیشن جماعتوں کا 2 سے 8 اکتوبر تک ملک گیر احتجاج، 6 اکتوبر کو الیکشن کمیشن تک مارچ، .I.N.D.I.A بلاک کا بڑا فیصلہ

I.N.D.I.A. اتحاد کی ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ میں 20 جماعتوں کی شرکت،…

34 minutes ago

Centenary Celebrations of UPSC: وزیراعظم مودی یکم اکتوبر کو یونین پبلک سروس کمیشن کی صد سالہ تقریبات میں ہوں گے شریک

بھارت منڈپم میں منعقدہ پروگرام کے دوران وزیراعظم مودی یو پی ایس سی کی صد…

1 hour ago

Green Energy Corridor Phase-III: وزیراعظم کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے گرین انرجی کوریڈور فیز-III اسکیم کو دی منظوری

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس…

2 hours ago

Ujjain Violence: شاہی مسجد تنازع کے بعد 20 گرفتار، 30 افراد کے خلاف ایف آئی آر

پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کو مکمل طور پر منہدم کیے جانے کے جعلی…

2 hours ago