واشنگٹن: کیریبین سمندر میں سفر کرنے والے لگژری کروز شپ ”کیریبین پرنسز“ پر نورووائرس پھیلنے کے بعد 115 افراد بیمار ہوگئے، جس کے بعد امریکی صحت حکام اور عالمی طبی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق متاثرہ افراد میں 102 مسافر اور 13 عملے کے ارکان شامل ہیں۔ تمام متاثرین میں قے، دست، معدے میں تکلیف اور کمزوری جیسی علامات پائی گئی ہیں، جو نورووائرس انفیکشن کی عام نشانیاں سمجھی جاتی ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل ایک دوسرے کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث تین افراد کی موت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دونوں واقعات نے بحری سفر کے دوران متعدی بیماریوں کے خطرات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ کیریبین پرنسز نامی یہ بحری جہاز 28 اپریل کو امریکی ریاست فلوریڈا سے 13 روزہ سفر پر روانہ ہوا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 3,116 مسافر اور 1,131 کریو ممبران موجود تھے۔
سی ڈی سی کے مطابق جہاز نے اپنے سفر کے دوران بہاماس، اروبا، کیوراکاؤ، بونائر، سینٹ مارٹن، پورٹو ریکو، ڈومینیکن ریپبلک اور ناساؤ سمیت کئی سیاحتی مقامات کا دورہ کیا۔ سات مئی تک جہاز پر بیمار افراد کی تعداد مقررہ حد سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد کروز کمپنی نے صورتحال سے متعلق امریکی حکام کو آگاہ کیا۔ سی ڈی سی کے قوانین کے مطابق اگر کسی بحری جہاز پر موجود تین فیصد سے زیادہ افراد کسی بیماری کا شکار ہوجائیں تو اس کی فوری اطلاع دینا لازمی ہوتا ہے۔ کروز کمپنی “پرنسز کروز” نے اپنے بیان میں کہا کہ زیادہ تر متاثرہ افراد کو معمولی نوعیت کی معدے کی بیماری لاحق ہوئی تھی اور کئی مسافر صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔ کمپنی کے مطابق تمام افراد ایک ہی وقت میں بیمار نہیں ہوئے تھے، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر جہاز میں صفائی اور جراثیم کش اسپرے کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ جہاز کے مختلف حصوں کو بار بار صاف کیا جارہا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔
کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ 11 مئی کو جہاز کے پورٹ کیناورل پہنچنے کے بعد مکمل ڈس انفیکشن اور گہری صفائی کی جائے گی۔ جہاز پر موجود ایک مسافر جان وان میلیگن نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور بیشتر مسافر معمول کے مطابق کھانے، تفریحی پروگراموں اور شوز میں شریک ہورہے ہیں۔ ان کے مطابق جہاز کے عملے نے مسافروں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے اور لوگوں کو بار بار ہاتھ دھونے اور احتیاط برتنے کی ہدایات دی گئیں۔
طبی ماہرین کے مطابق نورووائرس ایک انتہائی متعدی وائرس ہے جو آلودہ خوراک، پانی، گندی سطحوں اور متاثرہ افراد کے رابطے سے تیزی سے پھیلتا ہے۔ بند ماحول، خصوصاً کروز شپ، اسپتالوں اور ہاسٹلوں میں یہ وائرس بہت کم وقت میں بڑی تعداد کو متاثر کرسکتا ہے۔ ماہرین نے مسافروں کو صفائی کا خاص خیال رکھنے، بار بار ہاتھ دھونے اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ سمندری سیاحت میں اضافے کے باعث وائرس تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ سی ڈی سی نے کروز کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مسافروں کی اسکریننگ، نگرانی اور ہنگامی صفائی کے نظام کو مؤثر بنائیں تاکہ آئندہ واقعات سے بچا جاسکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…