بین الاقوامی

Trump on Pakistan-Afghanistan Conflict: ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان- افغانستان جنگ میں مداخلت کے دئے اشارے، ٹرمپ نے کہا-پاکستان بہت اچھا کر رہا ہے

نئی دہلی :پاکستان اور افغانستان کے درمیان 26 اور 27 تاریخ کی درمیانی شب فوجی کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد صورتحال باقاعدہ جنگی ماحول میں تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ سرحد پار کارروائیوں، فضائی حملوں اور ڈرون حملوں کے تبادلوں نے پورے خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسی دوران امریکا کے مؤقف پر اٹھنے والے سوالو ں  کا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان سے سامنے آیا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر خطے میں حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو امریکا مداخلت کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم اور فوجی قیادت کے لیے اپنے گہرے احترام کا بھی اظہار کیا۔

دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر فضائی اور ڈرون حملوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کارروائی کی گئی، جس کے جواب میں
پاکستان نے جوابی اقدامات کیے۔ رپورٹس کے مطابق اس جھڑپ میں افغان جنگجوؤں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کی جانب سے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے انہیں ناکام بنا دیا۔ اس کے برعکس افغان وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں پاکستان کے مبینہ فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر پاکستان حکومت نے ملک بھر میں نجی اور تجارتی ڈرون پروازوں پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ افغانستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی اور موجودہ صورتحال پاکستان کی جارحانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے پورے جنوبی ایشیائی خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ثالثی یا سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے، قابل ذکر با ت یہ ہےکہ  فی الحال حالات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

6 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

6 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

7 hours ago