امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے درمیان معاہدے کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب واشنگٹن کی جانب سے آخری وقت میں چند نئی شرائط سامنے رکھی گئیں، جنہیں اوٹاوا نے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ معاہدہ ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی بعض کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ کینیڈا نے بھی ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ کی پالیسی کے تحت جوابی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کن شرائط پر اختلاف پیدا ہوا؟
مارک کارنی کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکہ نے تین ایسی شرائط پیش کیں جنہوں نے معاہدے کی راہ روک دی۔ پہلی شرط کینیڈا کی آٹو انڈسٹری سے متعلق تھی۔ کارنی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں کو ٹیرف میں رعایت دینے کے دائرے سے باہر رکھنے کی تجویز دی، جس سے کینیڈا کی آٹو مینوفیکچرنگ صنعت کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔دوسرا بڑا تنازع کینیڈا کی آزاد تجارتی پالیسی پر تھا۔ امریکی تجویز کے مطابق کینیڈا کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کرنے کی آزادی محدود کی جا سکتی تھی۔ کارنی نے اسے کینیڈا کی معاشی خودمختاری پر حملہ قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کا ملک اپنی تجارتی پالیسی کسی دوسرے ملک کے دباؤ میں نہیں چلائے گا۔
زبان، ثقافت اور خودمختاری کا معاملہ
تیسری شرط کینیڈا کے ثقافتی اور لسانی قوانین سے متعلق تھی۔ کارنی کے مطابق امریکی تجاویز میں ایسے نکات شامل تھے جو فرانسیسی زبان، ثقافتی تحفظات اور کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق پالیسیوں کو متاثر کر سکتے تھے۔ کینیڈین وزیر اعظم نے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے گھر کے خود مالک ہیں‘ اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
تجارتی جنگ کا خدشہ بڑھا
معاہدہ ٹوٹنے کے بعد دونوں ممالک ایک نئی تجارتی جنگ کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ اور کینیڈا ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، اس لیے نئے ٹیرف کا اثر اسٹیل، ڈیری، الیکٹرانکس، آٹو موبائل اور دیگر صنعتوں پر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع سے شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا غیر منصفانہ شرائط قبول نہیں کرے گا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اوٹاوا نے ایک ممکنہ معاہدے کا موقع ضائع کیا۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…
جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد سیاحت کے ساتھ…