نئی دہلی :عراق میں سیاسی تبدیلی کے اہم مرحلے کے تحت علی فلیح قدیم الزیدی کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہ عراق کی تاریخ کے کم عمر ترین وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے علی الزیدی کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’’علی فلیح قدیم الزیدی کو عراق کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ بھارت عراق کے ساتھ اپنے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہر شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں اور ہمارے دونوں ممالک کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کی امید رکھتا ہوں۔‘‘
عراقی میڈیا رپورٹس کے مطابق علی الزیدی نے ایک نامکمل کابینہ کے ساتھ حلف لیا ہے، کیونکہ پارلیمنٹ ابھی تک داخلہ اور دفاع جیسی اہم وزارتوں پر اتفاق رائے قائم نہیں کر سکی ہے۔ اس کے باوجود آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے نئی حکومت نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔سرکاری عراقی نیوز ایجنسی آئی این اے کے مطابق وزیر اعظم علی فلیح الزیدی اور دیگر وزراء نے جمعرات کے روز آئینی حلف لیا اور باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ عراق کے وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ نے وزیر اعظم الزیدی کی حکومت اور ان کے پالیسی پروگرام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حمایت میں ووٹ دیا ہے۔
عراقی آئین کے مطابق کسی بھی نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کابینہ کے نصف سے زائد وزراء کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ الزیدی کی حکومت میں کل 23 وزارتیں شامل ہونی چاہئیں، تاہم کئی اہم قلمدانوں پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ابھی جاری ہیں، جس کی وجہ سے کابینہ مکمل نہیں ہو سکی۔پارلیمنٹ نے اب تک 14 وزارتوں کی منظوری دی ہے، جبکہ داخلہ اور دفاع سمیت کئی اہم وزارتوں پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا۔ نئی حکومت میں باسم محمد کو عراق کا نیا وزیرِ تیل مقرر کیا گیا ہے، جبکہ فواد حسین کو دوبارہ وزیر خارجہ برقرار رکھا گیا ہے۔
علی الزیدی نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنی حکومت کا پروگرام بھی پیش کیا، تاہم اس کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ ان کی تقریر کی براہِ راست نشریات بھی نہیں کی گئیں۔40 سالہ علی الزیدی کو 27 اپریل کو نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ کم عمری میں وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر انہیں عراق کی سیاست میں ایک نئی نسل کی قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کے سامنے ملک میں استحکام، اقتصادی اصلاحات اور سیاسی اتفاقِ رائے قائم کرنے جیسے بڑے چیلنج موجود ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…